گیلپ پاکستان سروے کے مطابق پاکستانیوں کی رائے جانیے

ہر 2 میں سے 1 پاکستانی یعنی 47 فیصد افراد مستقبل سے مایوس نہیں ہیں اور نئے سال میں حالات میں بہتری کے لیے پُراُمید ہیں۔ یہ بات عوامی آراء جاننے کے حوالے سے معروف ادارے گیلپ پاکستان کے ایک حالیہ سروے میں سامنے آئی ہے، جس میں 1 ہزار سے زائد افراد نے ملک بھر سے حصہ لیا، یہ سروے 9 اکتوبر سے 2 نومبر 2020 کے درمیان کیا گیا۔
گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی مستقبل سے مایوس بھی نظر آئے ،جب کہ 13 فیصد سمجھتے ہیں کے حالات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور 10 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
گیلپ پاکستان کے مطابق پاکستانیوں میں پُرامید ہونےکے نیٹ اسکور میں گزشتہ 30 سال میں کافی اُتار چڑھاؤ آیا ہے ۔

2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے وقت یہ شرح 30 سال کی سب سے کم ترین سطح یعنی منفی 31 پر نوٹ کی گئی،مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کے ابتدائی 6 ماہ میں یہ 11 فیصد پر آگئی اور 2014ء میں 61 فیصد کی بلند ترین سطح پر گئی اور پھر اس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ۔
2018ء میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے برسر اقتدار آنے پر اس میں اضافہ ہوا اور یہ 37 فیصد تک گئی لیکن 2019 میں پاکستانیوں کے پُر امید ہونے کا نیٹ اسکور 14 فیصد پر آگیا، البتہ 2020ء میں کورونا کی وبا کے باوجود اس کی شرح 17 فیصد پر دیکھی گئی ہے ۔
نیٹ اسکور کے برعکس گیلپ پاکستان نے پاکستانیوں کی رائے کا موازنہ 46 ممالک کی مجموعی رائے سے بھی کیا، جس میں دیکھا گیا کے عالمی سطح پر 43 فیصد افراد مستقبل میں بہتری کے لیے پُرامید ہیں جب کہ 24 فیصد مایوس ہیں ، 26 فیصد سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں آئے گا اور 7 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
خطے کے دیگر ممالک کو دیکھا جائے تو بھارت میں 68 فیصد افراد مستقبل میں بہتری کی امید رکھتے ہیں جب کہ افغانستان میں یہ شرح 31 فیصد ہے۔
گیلپ کے ‘ہوپ انڈیکس’ میں نیٹ اسکور کی بنیاد پر دنیا کے 5 پُرامید ممالک کی فہرست میں نائیجیریا 69 فیصد کے ساتھ سب سے اوپر نظر آیا ، جس کے بعد انڈونیشیا 66 فیصد ، آذربائیجان 65 فیصد، ویتنام 59 فیصد اور کرغستان 58 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ پُرامید ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر دکھائی دیا ۔
مستقبل سے سب سے زیادہ نااُمید اٹلی کے باشندے نظر آئے جہاں نیٹ اسکور منفی 43 فیصد دیکھا گیا ۔ ہانگ کانگ میں یہ شرح منفی 34 فیصد، پولینڈ میں منفی 32 فیصد، بلغاریہ میں منفی 32 فیصد اور جنوبی کوریا میں منفی 22 فیصد نظر آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں