کورونا وائرس نے سب سے زیادہ نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کیے

کورونا وائرس نے نوجوانوں پر شدید ذہنی اثرات مرتب کیے ہیں جس میں اضطراب اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری نمایاں ہیں۔
برطانوی ریسرچ کمپنی نے 18 سے 24 سال کی عمر کے چھ ہزار نوجوانوں سے سروے کیا ہے جس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق عالمی وبا نے نوجوانوں پر شدید ذہنی اثراتب مرتب کے ہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق کرونا وبا سے نوجوانوں میں اضطراب اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری محسوس کرنا نمایاں ہیں۔ کرونا وبا کے بدترین معاشی اثرات نے نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ خطرے میں ڈالا ہے جس سے نوجوان پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اور ذہنی طور پر بھی پرسکون نہیں‌

گزشتہ روز برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں کرونا وائرس کے ایک فیصد سے بھی کم کیسز بچوں میں سامنے آئے جبکہ ان سے ہلاکتوں کی شرح ایک فیصد تھی۔
متعدد برطانوی اداروں نے اس تحقیق میں 19 سال سے کم عمر 651 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جو برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں جنوری سے جولائی کے دوران 138 اسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔
محققین کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں زیر علاج رہنے والے تمام مریضوں میں سے ان کم عمر مریضوں کی شرح 0.9 فیصد تھی۔
جریدے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ان کم عمر مریضوں میں سے 6 یا ایک فیصد کا اسپتال میں انتقال ہوا جبکہ دیگر عمر کے کرونا مریضوں میں اس عرصے کے دوران یہ شرح 27 فیصد رہی۔
محققین کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 18 فیصد بچوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی جبکہ ان میں سے سے عام علامات بخار، کھانسی، دل متلانا یا قے اور سانس لینے میں مشکلات تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں