کورونا سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کو کس طریقے سے صاف کرنا بہتر ہے ؟

کرونا وائرس کی وبا نے الکوحل ملے صفائی کے محلول جیسے سینی ٹائزر اور کلیننگ جیل کو ہماری زندگی کا لازمی حصہ بنا دیا ہے، تاہم حال ہی میں ماہرین نے اس کے مسلسل استعمال سے ہونے والے نقصان سے بھی آگاہ کردیا ہے
برٹش انسٹی ٹیوٹ آف کلینک سائنس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اینڈریو کیمپ کا کہنا ہے کہ سینی ٹائزر کا حد سے زیادہ استعمال جراثیم اور وائرسز میں اس کے خلاف مزاحمت پیدا کردے گا جس کے بعد وہ اتنے طاقتور ہوجائیں گے کہ سینی ٹائزر ان پر بے اثر ہوجائے گا۔
ڈاکٹر کیمپ کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاتھوں پر موجود دیگر جراثیم رفتہ رفتہ سینی ٹائزر سے مطابقت پیدا کرلیں گے اور یوں وہ ان پر بے اثر ہوجائے گا۔اور اگر ایسا ہوا تو جراثیموں اور وائرسز کا حملہ ناقابل تسخیر ہوگا اور ہم طبی طور پر جنگی صورتحال کا شکار ہوجائیں گے۔
ڈاکٹر کیمپ کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سینی ٹائزر کا استعمال ہماری زندگیوں کا معمول بن گیا ہے، ہر جگہ پر سینی ٹائزر موجود ہیں جو ہم بے تحاشہ استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق سینی ٹائزر اور الکوحل جیل کے استعمال کے بجائے ہمیں ہاتھ دھونے کو ترجیح دینی چاہیئے۔ صابن اور پانی جراثیم اور وائرسز کو دھو ڈالتے ہیں اور یہ ہمارے لیے نقصان دہ بھی نہیں بنتے۔
علاوہ ازیں سینی ٹائزر اور کلیننگ جیل وہیں استعمال کرنے چاہئیں جہاں صاف پانی اور صابن کی فراہمی نہ ہو۔

ڈاکٹر کیمپ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صفائی کا محلول ہمارے ہاتھوں سے 99.9 فیصد تک جراثیم کے خاتمے کا دعویٰ کرتا ہے تب بھی بقیہ 0.1 فیصد جراثیم کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے، اور جو جرثومے اور وائرس الکوحل سے بھی زندہ بچ جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ وہ کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر کیمپ اپنی یہ تحقیق اکتوبر میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بھی پیش کرنے جارہے ہیں۔
اس لیے سینیٹائزر کا استعمال وہاں کریں‌جہاں پانی نہ ہو ، ورنہ ہاتھو‌ں‌کو دھونا ہی سب سے بہتر ہے

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں