پاکستان میں کون سی بھنگ کاشت ہو گی؟ فواد چوہدری نے وضاحت دے دی

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وضاحت کی ہے کہ وفاقی کابینہ نے جس بھنگ کی کاشت کی منظوری دی ہے وہ ادویات اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں استعمال ہوگی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل بھنگ نشہ آور نہیں، کچھ لوگ کنفیوژن پھیلا رہے ہیں، یہ وہ بھنگ نہیں جو پاکستان میں ہوتی ہے، اس کے بیج بیرون ملک سے منگوائیں گے اور اس کی کاشت بھی سرکاری سطح پر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل ہیمپ میں ٹی ایل سی صرف 0.3 فیصد ہوتی ہے، اگر کوئی انڈسٹریل ہیمپ ایک کلو بھی گھوٹ کر پی لے گا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، دنیا میں انڈسٹریل بھنگ کی مارکیٹ 25 ارب ڈالر ہے اور پاکستان اگلے 3 سال میں اس میں سے ایک ارب ڈالر کا حصہ دار بننا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے بھنگ کی سرکاری سطح پر کاشت کی منظوری دی ہے، نجی شعبہ فی الحال کاشت نہیں کر سکے گا، انڈسٹریل بھنگ کے بہت فائدے ہیں، یہ نہ صرف ادویات بلکہ کپڑے اور بیگز بنانے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

فواد چوہدری نے بھنگ کے مزید فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کپاس کا بدل ہے، جنگوں میں فوجیوں کے اعضا کٹ جائیں یا شدید درد اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو بھنگ کے پودے سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ چین میں 40 ہزار اور کینیڈا میں ایک لاکھ ایکڑ پر انڈسٹریل بھنگ کے پودے کاشت کیے جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں خطہ پوٹھوہار بھنگ کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں علاقہ ہے تاہم ابھی زونز کا حتمی تعین کرنا باقی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں