کراچی میں ہونے والی بارشوں سے 101 افراد جاں بحق سیکڑوں زخمی، مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں حالیہ بارشوں کے دوران 101 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس بار کراچی سمیت صوبے بھر میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں، بارشوں کے باعث جوہی میں نئیں گاج کے بہاؤ کے باعث کافی علاقے متاثر ہوئے، جوہی میں 2 لاکھ 40 ہزار افرد متاثر ہوئے اور 23 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔
ان کا بتانا تھا کہ جوہی میں 1080 کچے گھر مکمل گر گئے اور 1640 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا اور جانور بھی مر گئے۔ اس کے علاوہ کھپرو تھرپارکر میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور زمین متاثر ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ میں بارشوں کے دوران 101 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس میں سے سب سے زیادہ 63 افراد کراچی میں جاں بحق ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں کے باعث سب سے زیادہ کراچی میں زیادہ صورتحال خراب ہوئی اور ضلع غربی سب سے زیادہ متاثر ہوا
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے ضلع وسطی میں بارشوں سے 29 مکانات مکمل متاثر ہوئے، ضلع وسطی میں اسکول، مساجد اور سڑکیں بھی متاثر ہوئیں، مرکزی اور بڑی شاہراہوں کو بہت حد تک صاف کیا گیا، عاشورہ کے جلوس کی گزر گاہوں پر برساتی پانی کی نکاسی کرائی گئی تاہم تاہم کھارادر سے ٹاور تک نکاسی میں تاخیر ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرجانی ٹاؤن یوسف گوٹھ میں بہت بری حالت تھی، اس کے علاوہ نیو کراچی، کورنگی اور ڈیفنس کے علاقے بھی متاثر ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 42 ہزار خیموں کا اسٹاک تھا، بارشوں کی صورتحال کے بعد اب خیموں کا اسٹاک تقریبا ختم ہو گیا ہے، خیمہ بستیوں میں کھانا پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ دیگر صوبوں میں بھی طوفانی بارشیں ہو رہی ہیں، پورا یقین ہے کہ وہاں کی حکومتیں اپنی عوام کے لیے کام کر رہی ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کوئی سیاست نہیں، اگر ضرورت پڑی تو سندھ حکومت مکمل تعاون کرے گی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں بارشوں کے بعد دریائے سندھ کا لیول بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں 802 ارب روپے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، کچھ منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور کچھ کی منصوبہ سازی کا کام مکمل ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ہمارے ان منصوبوں کو میچ کرے، وفاقی حکومت سندھ کے دیگر اضلاع کے لیے بھی منصوبے دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں