کورونا کی بگڑتی صورتحال ،برطانیہ میں اب سخت لاک ڈاؤن کا عندیہ

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کرونا کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ملک بھر میں سخت پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے کرونا کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ملک بھر میں کرونا پابندیاں مزید سخت کرنے کا اشارہ دیا اور ساتھ میں کہا کہ طلب علموں کو اُن اسکولوں میں جا کر کلاسز لینے کی اجازت ہے جو محفوظ ہیں۔
برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی ادارے مزید بند رکھنے کا اعلان کیا مگر ٹیچر یونین نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ کیئر سسٹم (این ایچ ایس) نے کرونا کی روک تھام کے لیے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد انگلینڈ میں پہلے ہی ٹیرفور لاک ڈاؤن نافذ ہے جہاں شہریوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’کرونا کی صورت حال ابھی تک قابو میں نہیں آئی، ممکن ہے کہ حکومت صورت حال کو دیکھتے ہوئے مزید سخت پابندیاں عائد کردے‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے غور کرنا شروع کردیا ہے، میں ملک میں جاری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرتا ہوں کہ اگر ضرورت پیش آئی تو حکومت پابندیوں کے اقدامات کو مزید سخت کرے گی‘۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما سرکئیر اسٹارمر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ چوبیس گھنٹے سے پہلے ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیں تاکہ صورت حال کو قابو کر کے شہریوں کی جان بچائی جاسکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت چوبیس گھنٹوں میں نیشنل لاک ڈاؤن نافذ کرے، وزیراعظم کی جانب سے لاک ڈاؤن کی تاخیر کا فیصلہ اچھا نہیں ہے، اس وقت جو صورت حال ہے اُس میں بروقت پابندیاں نافذ کرنا بہت ضروری ہیں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں