کورونا وائرس سے دنیا بھر کے معمولات زندگی متاثر، 29 کڑور بچےاسکول جانے سے محروم

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے اب تقریباً پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں. اور پوری دنیا کے معمولات زندگی اس سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں. دنیا بھر کے 29 کڑور بچے بھی اس وائرس کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکتے. اور گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق وائرس کی وجہ سے 13 ملکوں میں اسکول بند ہیں جس کی وجہ سے 29 کروڑوں بچے اسکول جانے سے محروم ہو گئے ہیں
اس کے علاوہ مختلف ممالک میں متعدد اہم سرگرمیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں. سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کے دوسرے کیس کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد سعودی حکومت نے اپنے شہریوں پرعمرہ کرنے پر پابندی لگا دی۔ جو کہ عارضی ہے. حالات کے بہتر ہونے پر یہ پابندی ختم کر دی جائے گی
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سعودی شہری اورمملکت میں قیام پذیر لوگ عمرے کے لیے حرم میں داخل نہیں ہوسکتے۔
کورونا وائرس اب تک 80 سے زائد ملکوں تک پھیل چکا ہے جس سے دنیا بھر میں 3200 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 95 ہزار متاثر ہیں۔
پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہے جن میں سے دو مریضوں کا تعلق کراچی، دو کا اسلام آباد اور ایک کا گلگت بلتستان سے ہے۔
حکومت نے ایران میں وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ملک میں حفاظتی اقدامات کے تحت بلوچستان کے ضلع تفتان سے پاک ایران بارڈر بند کررکھا ہے جب کہ چمن سے پاک افغان بارڈر بھی بند ہے۔
اس کے علاوہ سندھ اور بلوچستان میں تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔
اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہے. جس کے لیے لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے

اپنا تبصرہ بھیجیں