کیا کراچی کا کوئی نہیں ؟

کراچی میں گزشتہ ہفتے ہونے والی بارش کے بعد ڈی ایچ اے کے بیشتر مقامات سے تو پانی نکال دیا گیا مگر اولڈ سٹی ایریا، نیاناظم آباد اور سرجانی ٹاؤن سمیت بعض علاقوں میں سیوریج ملا بارش کا پانی شہریوں کے لیے وبال جان بن گیا ہے۔
کراچی کے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں، شہر کے لیے کیے جانے والے اعلانات کی قلعی کھولنے کے لیے ڈی ایچ اے اور سرجانی کے بعض علاقوں میں اب تک موجود بارش اور سیوریج کا بدبودار پانی کافی ہے۔
ڈیفنس کے خیابان سحر اور شجاعت میں پانی کی نکاسی کا کام جاری ہے جب کہ خیابان بخاری کی کچھ گلیاں اب بھی زیر آب ہیں۔
کلفٹن اور ڈی ایچ اے کے مکینوں اور سول سوسائٹی نے شہر میں ناکافی سہولیات اور مخدوش انفرا اسٹرکچر کے خلاف فریئر ہال میں احتجاج کیا اور مسائل کے حل اور ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
نیا ناظم آباد میں زندگی بھر کی جمع پونجی لگانے والوں کے گھر گزشتہ 8، 9 روز سے ڈوبے ہوئے ہیں، اندر موجود سارا سامان برباد ہو چکا لیکن صوبائی حکومت اور انتطامیہ کو یہاں رہنے والے مکینوں پر رحم نہیں آ یا. اور عوام کی سہولت کے لیے کوئی بھی کام نہ کیا گیا
کھارادر کا علاقہ بھی تاحال سیوریج کے بدبودار پانی اور دلدل نما کیچڑ سے اٹا ہوا ہے، چلنا پھرنا تو دُور، لوگوں کا سانس لینا تک مشکل ہو گیا ہے، ہرطرف گندگی کے باعث کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
گلستان جوہر بلاک 18 کے مختلف رہائشی منصوبے بھی زیر آب ہیں، سرجانی ٹاؤن کے مختلف سیکٹرز، یوسف گوٹھ اور دیگر نشیبی علاقوں میں بھی گندے پانی اور کیچڑ کے باعث زندگی مفلوج ہے۔
آئی آئی چندریگر روڈ سے ٹاور تک پانی تو نکال دیا گیا مگر گٹر ابلنے سے گندہ پانی روڈ کے کناروں اور اطراف کی گلیوں میں بھر گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں کورنگی کاز وے پر ندی کا پانی آ گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ندی کے پانی کے باعث کاز وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، ٹریفک کو ایکسپریس وے اور گودام چورنگی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
ان سب حالات کے باوجود کوئی بھی کراچی کے عوام کے دکھ درد میں شریک نہیں‌بلکہ سب اپنی اپنی سیاست کرنے میں مصروف ہیں‌
آج وزیر اعظم کا دورہ کراچی ہے دیکھتے ہیں‌وہ کراچی کی عوام کو کیا سکھ دیتے ہیں‌ . اور کہاں تک ان کے دکھوں‌کا مداوا کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں