امریکی صدارتی انتخابات التوا کا شکار لیکن کیوں ؟

امریکا میں صدارتی انتخابات میں پولنگ کے دو دن بعد بھی نتائج مکمل نہ ہو سکے۔ امریکا کے صدارتی انتخابات کے نتائج غیر معمولی طوپر التو ا کا شکار ہیں، ریاست پنسلوینیا، نیو اڈا اور جارجیا میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی پوزیشن مزید بہتر ہوگئی ہے
انتخابات کے 2 روز گزرنے کے بعد بھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور نتیجہ نہیں دیا جاسکا۔
اب تک کے نتائج میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ صدرٹرمپ دوسری بار منتخب ہوسکیں گے یا وائٹ ہاوس جو بائیڈن کا مقدر بنے گا۔

نیواڈا، جارجیا، پنسلوینیا ، شمالی کیرولائنا کے نتائج ہی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
ایڈیسن ریسرچ کے مطابق ایری زونا میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے جہاں جوبائیڈن 50.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جب کہ پنسلوانیا میں94 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کےبعد ٹرمپ 49.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں۔
ریسرچ کے مطابق جارجیا میں 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہے جہاں جوبائیڈن اور ٹرمپ کے ووٹ برابر ہیں۔
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کو واضح برتری حاصل ہے اور وہ صدارتی کرسی تک پہنچنے کے لیے درکار 270 میں سے 264 ووٹ لے چکے ہیں جب کہ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 214 ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نےانتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور کہا ہےکہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں جو اعلیٰ عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں