ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ تباہ، 16 افراد جاں بحق

انڈیا کی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ملک کی جنوبی ریاست کیرالہ کے شہر کالی کٹ کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا
یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر 41 منٹ پر پیش آیا ہے اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر دس بچوں سمیت 191 افراد سوار تھے . جس میں سے 16 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں. جبکہ اس بات کا حدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے

تاہم خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی سمیت انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق ابتدائی طور پر اس حادثے میں کم از کم 16افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔
حکام کے مطابق بیشتر مسافروں کو ہوائی جہاز سے نکال لیا گیا ہے اور کم از کم 35 زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا چکا ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والی ایئر انڈیا کی ایکسپریس پرواز آئی ایکس 1344 جمعے کی شام دبئی سے کالی کٹ کے کوئیکوڈ ہوائی اڈے پہنچی تھی اور ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق خراب موسم میں اترتے ہوئے طیارہ رن وے سے پھسل کر نیچے جا گرا۔
انڈین ذرائع ابلاغ پر دکھائے جانے والے مناظر میں بوئنگ 737 طیارے کو ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے خبر دی ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے پر رک نہیں سکا اور وادی میں گر کر دو ٹکڑے ہو گیا۔
ان کا یھی کہنا تھا کہ جس وقت طیارہ ہوائی اڈے پر اترا تو حدِ نگاہ بہت کم تھی۔ خیال رہے کہ کوئیکوڈ کے ہوائی اڈے کا رن وے ایک پہاڑی پر واقع ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے باوجود طیارے میں آگ نہیں لگی اور جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں فورا شروع کر دی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایئر انڈیا کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس پرواز میں بیشتر مسافر ایسے تھے جن کی کورونا وبا کے باعث دبئی میں ملازمتیں ختم ہو چکی تھیں اور وہ اپنے وطن واپس لوٹ رہے تھے جبکہ چند ایسے مسافر بھی تھے جو چھٹیاں منانے دبئی گئے تھے لیکن وبا کے باعث وہاں پھنس گئے تھے۔ اور اب واپس آ رہے تھے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ‘مجھے امید ہے زخمی افراد جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔ میں نے صورتحال پر کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینا رائی وجے یان سے رابطہ کیا ہے اور حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور متاثرین کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔’
اس بات کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنا جانی نقصان ہوا ہے. امدادی کاروائیاں جاری ہیں . جو جلد تمام زحمیوں کو ملبے سے نکال لیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں