’پاکستان سے کوئی اچھی آفر آئی تو ضرور قبول کروں گا‘ دریلس ارطغرل

سرکاری براڈ کاسٹر پاکستان ٹیلی وژن کے چینل ’پی ٹی وی ہوم‘ پر میزبان فرقان حمید کے ساتھ نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں، جسے اردو زبان میں ڈب کیا گیا تھا، اینگن التن دزیتن نے اپنی زندگی، ارطغرل کی شوٹنگ اور دنیا بھر میں شو کے حوالے سے ملنے والے مثبت ردِعمل کے بارے میں بات چیت کی۔
انھوں نے بالخصوص پاکستانی شائقین سے ملنے والی داد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے پاکستان اور ترکی کی دوستی کے حوالے سے سنتے آ رہے ہیں اور برادر ملک کی جانب سے اس قدر محبت کے اظہار نے انھیں بڑا جذباتی کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی پاکستان کے مداح ہیں اور اگر انھیں پاکستانی فلم انڈسٹری میں کوئی فلم یا کردار آفر ہوا اور وہ ان کی پسند کا ہوا تو وہ پاکستان آ کر ضرور کام کرنا چاہیں گے۔

اینگن التن دزیتن سے جب پوچھا گیا کہ ان کا پسندیدہ ڈرامہ کون سا ہے جو وہ بار بار دیکھنا چاہتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ کوئی بھی ڈرامہ یا فلم بار بار نہیں دیکھتے اور جب ایک پراجیکٹ ختم ہو جائے تو پھر وہ ان کو دوبارہ نہیں دیکھتے اور نئے پراجیکٹ کے بارے میں سوچنا پسند کرتے ہیں۔
اپنے مشہور ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے ایک یادگار سین کی شوٹنگ کا واقعہ بیان کیااور کہا کہ ایک دن ان کے ساتھی اداکار سے اپنی لائنز ادا نہیں ہو پا رہی تھیں اور وہ ہیجان انگیز کیفیت میں مبتلا تھا۔ سین دہرایا گیا لیکن اس اداکار سے اپنی لائن صحیح طرح ادا نہیں ہو پائیں۔

اینگن التن دزیتن بتاتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھی اداکار کے پاس گئے اور ان کا حوصلہ بڑھا کر انھیں پُرسکون ہونے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب شوٹنگ دوبارہ شروع ہوئی تو لڑائی کے دوران اسی اداکار نے ان کے سر پر زور سے وار کر دیا اور زخم سے خون بھی بہنے لگا۔ جب انھوں نے ساتھی سے دریافت کیا، ’یہ کیا؟‘ تو اس نے جواب دیا کہ اس سے جلد بازی میں یہ غلطی ہو گئی۔

ڈرامے کو تشکیل دینے والی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ارطغرل کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ ان کے تعلعات بہت اچھے تھے۔ ’یوں بھی اس ڈرامے کے ڈائریکٹر زبردست انسان ہیں اور وہ ڈرامے کی دنیا کے بارے میں بڑی معلومات رکھتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انھوں اس ڈرامے کو سب کی توقعات سے بہتر بنایا اور نتیجہ آپ لوگوں کے سامنے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چھ سال تک ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا آسان نہیں لیکن انھوں نے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر ماحول کو خوشگوار رکھنے اور سب کو یکجا رکھنے کی بھر پور کوشش کی اور اس سے ڈرامے پر بھی بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے اینگن التن دزیتن نے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو انسان دوست تصور کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی کا دل نہ دُکھائیں یا کسی کا دل نہ توڑیں۔
التن کا کہنا تھا کہ وہ انسانوں کو ترجیح دیتے ہیں اور جو کام وہ کرتے ہیں اس کے لیے انھیں لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ضروری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انھیں یہ ڈرامہ بناتے ہوئے احساس ہوا کہ اُس دور کے لوگ بہت پاک صاف اور معصوم ہوا کرتے تھے۔ ان کے مطابق وہ لوگ انتہائی مخلص اور نیک خیالات کے مالک ہوا کرتے تھے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے انسان اُس دور کے لوگوں کے طرح معصوم اور سچے نہیں اور دوسروں کے دکھ درد کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ارطغرل بناتے ہوئے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اُس زمانے کے لوگ بہت سادہ، صاف دل اور معصوم ہوتے تھے۔ اس دور کے لوگوں کے بارے میں جاننے کے بعد مجھے پتا لگا کہ وہ انتہائی مخلص اور نیک خیالات کے مالک ہوا کرتے تھے۔ موجودہ دور کے انسان ان کی طرح معصوم اور سچے نہیں بلکہ انتہائی بناوٹی ہوتے ہیں۔ میں دور حاضر کے لوگوں میں بھی معصومیت، اخلاص اور سچائی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ایسے لوگ دکھائی نہیں دیتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دستاویزی فلم پر کام کر رہے ہیں جس کا موضوع پلاسٹک کے ماحوال پر اثرات اور اس پیدا ہونے والی آلودگی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ وہ ایک خفیہ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کی تفصیلات وہ کسی کو نہیں بتا سکتے۔
ان سے پوچھا گیا کہ جب انھوں نے یہ پراجیکٹ لیا تو کیا انھیں اندازہ تھا کہ یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہو جائے گا۔ اس سوال پر اینگن التن دزیتن نے کہا کہ جب انھیں یہ سکرپٹ دیا گیا تو اس وقت انھیں یہ بہترین پراجیکٹ معلوم ہوا اور انھیں امید تھی کہ ترکی میں یہ بہت کامیاب ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ اس انداز میں پیش کیا گیا کہ ہم سب (اداکاروں) نے اپنی روح کو اس میں سمو دیا کہ اس میں کوئی بناوٹ شامل نہ ہو۔
لیکن وہ بتاتے ہیں کہ جہاں انھیں ترکی میں اس کی کامیابی کا یقین تھا لیکن اسے دنیا بھر میں جتنی مقبولیت ملی اس کا اندازہ نہیں تھا۔
ان کے مطابق ڈرامے کو صرف اسلامی ممالک سے ہی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے بھی اس میں گہری دلچسپی دکھائی۔ جنوبی افریقہ، یورپ اور برطانیہ، ہر جگہ اس کے چرچے رہے اور دنیا بھر میں اس کی مقبولیت ان کے لیے یقیناً حیران کن تھی۔
ان کے نزدیک پاکستان میں اس ڈرامے کی کامیابی کی ایک وجہ مشترکہ مذہب اور مشترکہ اقدار ہیں۔ اینگن التن دزیتن کا کہنا تھا کہ جتنی محبت انھیں پاکستان سے ملی ہے انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا اور وہ اس کے لیے شکر گزار ہیں۔
‘حالات بہتر ہونے کے بعد میں پاکستان آ کر پاکستان کے لوگوں کے روبرو اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور انشااللہ ایسا ضرور ہو گا۔‘ جہاں اینگن التن دزیتن پاکستان آنا چاہتے ہیں وہسے ہی پاکستانی شائقئن بھی اپنے پسندیدہ اداکار سے بھی ملنے کو بے تاب ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں