اب گاڑی کی رجسٹریشن ہوئی اور بھی آسان

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کےلیے آن لائن طریقہ کار متعارف کرادیا۔ جس سے عوام کو بڑی سہولت میسر آئے گی

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل اب آسان ہوگیا ہے، اب نئی گاڑی رجسٹریشن کے بغیر فروخت نہیں کی جاسکتی، شوروم مالکان دن میں جتنی گاڑیاں فروخت کریں گے وہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے نمائندے کو مطلع کریں گے جس کے بعد اب کے نمائندے موقع پر پہنچ کر گاڑیوں کی رجسٹریشن کریں گے۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد بلال اعظم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں جتنے بھی رجسٹرڈ ڈیلرز، شو رومز اور لوکل گاڑیاں بنانے والے ہیں، انہیں پابند کیا ہے کہ اگر آپ گاڑی بیچ رہے ہیں تو اپنے گاہک کو بتائیں کہ ہم آپ کی گاڑی اسلام آباد میں رجسٹرڈ کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا اقدام ہے کیونکہ ہم لوگوں کو گھر بیٹھے سہولت دے رہے ہیں اور دوسری جانب ہم ان کو پابند کررہے ہیں کہ کوئی بھی گاڑی شوروم سے رجسٹریشن کے بغیر نہ نکلے بلکہ ادھر ہی رجسٹرڈ ہوجائے۔

بلال اعظم نے کہا کہ اس سے عوام کو سہولت یہ ملے گی کہ لوگوں کو بار بار آنے اور قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی جس کی وجہ سے ان کا وقت ضائع ہوتا تھا۔ اور لوگ ان جھنجھٹ میں‌پڑنے سے گریز کرتے ہیں‌. اور رجسڑیشن بھی نہیں‌کرواتے

آن لائن رجسٹریشن کا طریقہ کار کیا ہو گا
اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ایک تو پہلے سے ہم نے آن لائن اپوائنٹمنٹ سسٹم صارفین کو دیا ہوا ہے اور اب بھی بینک لیز اور نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کا جتنا بھی عمل ہے اس میں‌ گاڑی مالکان گھر بیٹھے ہمارا فارم فل کریں۔ جب صارف فارم فل کرتے ہیں تو سسٹم آپ کو بتاتا ہے کہ کن اوقات میں کونسا کاونٹر خالی ہے اور پھر آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ ان اوقات میں سے کس وقت آنا چاہتے ہیں۔
اس میں آپ اپنا وقت منتخب کرتے ہیں پھر جب آپ آتے ہیں تو آپ کو روٹین والے کاونٹرز پر نہیں جانا پڑتا بلکہ آپ اپنے منتخب کردہ وقت میں ہی اس مخصوص کاونٹر پر جاتے ہیں۔
اسی طرح ہمارا یہی طریقہ کار شوروم کےلیے بھی ہوگا، شوروم والوں کی اگر روزانہ دو یا تین گاڑیاں فروخت ہوتی ہیں تو انہوں نے ہمارے نمائندوں کو فون کرنا ہے جس کے بعد ہماری ٹیم شوروم جاکر جتنی بھی گاڑیاں ہیں انہیں وہیں موقعے پر رجسٹر کرے گی۔
ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد نے کہا کہ اس میں اضافی فیس ہے کیونکہ ہم نے نادرا سے کچھ سہولیات لی ہوئی ہیں جیسے پی او ایل اور ان کی گاڑیاں ہم استعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں