آخر یہ درندگی کب تک چلے گی؟

گزشتہ روز کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں کچرے کے ڈھیڑ سے 5 سالہ بچی مروہ کی لاش ملی ، جس کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انسان نما جانوروں نے جلا دیا اور لاش کو کچڑے کے ڈھیڑ میں‌ پھینک دیا
میڈیکل لیگل آفیسر (ایم ایل او) جناح اسپتال کا کہنا ہے کہ بچی کو زیادتی کے بعد بھاری چیز سر پر مار کر قتل کیا گیا، مزید تفتیش کیلئے بچی کے جسم سے نمونے لیے گئے ہیں۔
بچی کی شناخت 5 سالہ مروہ کے نام سے ہوئی ،جس کی گمشدگی کا مقدمہ اس کے والد عمر صادق کی مدعیت میں پی آئی بی کالونی میں درج ہے۔ بچی کے والد عمر صادق کے مطابق مروہ ہفتے کی صبح گھر سے چیز لینے کے لیے نکلی اور لاپتہ ہو گئی تھی۔

پولیس نے لاش ملنے کے مقام سے 11 افراد کو حراست میں لیا ہے، تمام افراد کا ڈی این اے کروا دیا گیا ہے ،ڈی این اے کے نمونے جامعہ کراچی کی لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔ اس سے قبل تفتیشی پولیس پہلے ہی کیس میں 2 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔ رات گئے مزید کچھ مشکوک افراد کو حراست میں‌لیا گیا ہے . اس طرح اب تک زیر حراست افراد کی تعداد 17 ہو گئی ہے
پولیس کے مطابق دوران تفتیش مقدمے میں قتل اور زنا کی دفعات شامل کرلی گئیں، فی الحال مروا کی کیمیکل ایگزامنر رپورٹ اور ڈی این اے رپورٹس کا انتظارہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ درندگی آخر کب تک چلے گی ؟ کیوں درندوں کو ایسی عبرتناک سزا نہیں دی جاتی .کہ باقی اس سے کچھ سبق حاصل کریں اور ایسا کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے سوچیں .کب تک کتنی معصوم جانیں اس طرح درندگی کا شکار ہوتی رہے گی . اور کوئی کچھ نہیں کر سکے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں