کرنل انعام الرحیم کی گمشدگی لاہور ہائی کورٹ کی نظر میں‌غیر قانونی ہے

صحافتی حلقوں میں اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے کارکنوں میں انتہائی اہمیت رکھنے والے مقدمے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے آج سنادیا ہے. کرنل انعام الرحیم کی حراست کو لاہور ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے ، 16 اور 17 دسمبر کی درمیانی شب ،تقریبا 21 دن پہلے ان کے گھر سے لاپتہ کردیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بعد ازاں محکمہ دفاع نے قبول کر لی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج مرزا وقاص رؤوف نے فیصلہ دیتےہوئے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کی حراست کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔
آج لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران ریٹائرڈ بریگیڈئر ایڈووکیٹ واصف نے ،کرنل انعام الرحیم کی جانب سے اس کیس کو پیش کیا تھا، انہوں نے اس فیصلے کو آئین کی فتح قرار دیا۔
واضح رہے کہ کرنل انعام الرحیم لاپتہ افراد کے حوا لے سے جدوجہد کر رہے تھے۔ انہیں عسکری راولپنڈی میں واقع ان کے گھر سے رات کے وقت آٹھ سے دس سیاہ وردی پوش اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ان کے اہلخانہ نے عدالت میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ دائر کیا، عدالت نے جب اس بارے میں محکمہ داخلہ اور محکمہ دفاع سے جواب طلب کیا تومحکمہ داخلہ نے فوری طور پر لاعلمی کا اظہار کردیا لیکن محکمہ دفاع نے اس حوالے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
بعد ازاں عدالتی دباؤ پر محکمہ دفاع نے انہیں لاپتہ کرنے کا اعتراف کرلیا، جس پر متعلقہ لوگوں کو ان کے بارے میں کسی حد تک علم ہوا۔
محکمہ دفاع کی جانب سےاعتراف کےبعد لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے قانونی نکات پر غور کیا، محکمہ دفاع کی جانب سے سابق کرنل انعام الرحیم پر سرکاری معاملات افشاں کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے، عدالت نے محکمہ دفاع کے قانونی نکات کو کمزور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیا اور انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
کرنل انعام الرحیم کے بیٹے نے اس مقدمے کو کور کرنے والے معروف صحافی مطیع اللہ جان سے بات کرتے ہوئے تشکر کا اظہار کیا اور بتایا کہ تین ہفتے پہلے والد کے لاپتہ ہونے کے بعد انہیں دو ہفتے تک اپنے والد کے بارے میں کسی قسم کی کوئی خبر نہیں ملی، ایک ہفتہ قبل انہیں معلوم ہوا کہ وہ محکمہ دفاع کی تحویل میں ہیں، انہوں نے شکر ادا کیا کہ ان کے والد کے ساتھ ہونے والے غیر قانونی سلوک کو عدالت نے مسترد کردیا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا، گفتگو کے دوران ان کی انکھوں میں آنسو تھے۔
صحافی مطیع اللہ جان نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سابق کرنل اور ایڈووکیٹ کی گمشدگی سے متعلق نہیں بلکہ ملک بھر کے سینکڑوں لاپتہ افراد کیلئے روشنی کی ایک کرن ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فیصلہ ابھی مختصرا جاری کیا گیا ہے ، اگلی سماعت تک اس کی تفصیلی وجوہات اور قانونی نکات کی وضاحت سامنے آجائیگی لیکن یہ بات واضح ہوگئ کہ شہریوں کی جبری گمشدگی ایک غیر قانونی عمل ہے۔
عدالت کے فیصلے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قانونی طور پر ملزم ثابت کیے بغیر کسی شہری کو لاپتہ کرنا ایک غیر آئینی عمل ہے۔

مزید پڑھئے
عسکری راولپنڈی سے لاپتہ ہونے والے کرنل(ر) انعام الرحیم وزارت دفاع کی تحویل میں

اپنا تبصرہ بھیجیں