ٹک ٹاک پر پابندی، حکومت کا بڑا فیصلہ

پاکستان میں چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی۔
اطلاعات کے مطابق معروف سوشل میڈیا ایپ پر پابندی غیر قانونی و غیر اخلاقی مواد کی وجہ سے لگائی گئی ہے .
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی موجودگی کی شکایات کی تھیں جس کے بعد اس ایپ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’ ٹنڈر‘ اور ’سے ہائے‘ سمیت پانچ ڈیٹنگ ایپس اور لائیو اسٹریمنگ ویب سائٹس پر پابندی لگائی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پابندی کتنی دیر تک چل سکتی ہے . اور کب تک حکومت اس پر عمل درآمد کروا سکتی ہے
گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان معاشرے میں بڑھتی عریانیت اور فحاشی پر پریشان ہیں اور انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو اس کی روک تھام کے لیے ہدایت کی ہے کیونکہ ایسا نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے کی سماجی و مذہبی اقدار تباہ ہو جائیں گی۔

شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک یا دو نہیں بلکہ 15؍ یا 16؍ مرتبہ اس معاملے پر مجھ سے بات کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا اور اس کی ایپلی کیشنز کے ذریعے پھیلنے والی فحاشی کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

شبلی فراز نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ عریانیت کی وجہ سے بچوں اور خواتین کے ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں انہیں بتایا کہ ٹک ٹاک جیسی ایپس معاشرے کی اقدار کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہیں لہٰذا اسے بلاک کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں