مفکرِ پاکستان کا آج 143یوم پیدائش

مفکرِ پاکستان شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا آج 143 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کے لیے آزاد ملک کا خواب دیکھنے والے اور انسانی روح بیدار کرنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال کا یوم ولادت 9 نومبر کو پورے پاکستان میں منایا جاتا ہے۔
شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے معروف مفکر، شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔
علامہ محمد اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں میں آزاد ریاست کے خیال کو جنم دیا تھا، ان کے الفاظ میں یہ طاقت تھی کہ انہوں نے امّت مسلمہ کو ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے اور آزادی کے لیے قدم آگے بڑھانے کی ترغیب دی۔

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لیے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور اپنی شاعری سے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ اُن کے افکار اور سوچ نے اُمید کا وہ چراغ روشن کیا جس نے نا صرف منزل بلکہ راستے کی بھی نشاندہی کی۔
مفکر پاکستان نے شاہین کے تصور اور خودی کا فلسفہ پیش کیا، فرقہ واریت، نظریاتی انتہا پسندی اور نئے اجتماعی گروہوں کی تشکیل جیسے معاملات پر اقبال کی سوچ آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
یوم اقبال کے موقع پر ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تقاریری مقابلے منعقد کیے جارہے ہیں جس میں اقبال کے کلام اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر لاہور میں مزار اقبال پر گارڈز تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی۔
پاک بحریہ کے چاق چوبند دستے نے مزار اقبال پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، اس سے پہلے یہ ذمہ داری پاکستان رینجرز کے پاس تھی۔
پاک بحریہ کے اسٹیشن کمانڈر کموڈور نعمت اللہ خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور انہوں نے مزار اقبال پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ بھی پڑھی۔

اقبال کی تصانیف
اردو اور فارسی کے عظیم شاعر علامہ اقبال نے ‘سارے جہاں سے اچھا’ اور ‘لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری’ جیسے شہرہ آفاق ترانے لکھے جب کہ شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظموں نے خوب داد سمیٹی۔

علامہ اقبال کی اردو اور فارسی زبانوں میں تصانیف کے مجموعات میں بال جبریل، بانگ درا، اسرار خودی، ضرب کلیم، جاوید نامہ، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق اور ارمغان حجاز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پائی۔

اقبال! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا

موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

بہتر ہے کہ بچارے ممولوں کی نظر سے

پوشیدہ رہیں باز کے احوال ومقامات

اپنا تبصرہ بھیجیں