کیا آپ کھلا دودھ استعمال کرتے ہیں ؟‌

ملک بھر میں کھلے دودھ کے نام پر شہریوں کی رگوں میں سفید زہر اتارنے کا کاروبار جاری ہے، پشاور کے شہری دودھ کے نام پر زہر پی رہے ہیں‌. ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ دودھ انتہائی مہلک اور خطرناک ہے۔
دودھ ہر انسان کی پہلی خوراک ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کا دودھ اسے وہ غذائیت دیتا ہے جو اس کی نشونما کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے پھر جب بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اسے بھینس، گائے اور بکری وغیرہ کا دودھ توانائی دیتا ہے۔
ہمارے ملک کی اکثریت جو دودھ استعمال کرتی ہے وہ کھلا دودھ گوالوں کے ذریعے ہم تک پہنچتا ہے، پانی کی ملاوٹ اور کیمیکل کے مکسچر سے بننے والا کھلا دودھ انسانی صحت بالخصوص بچوں کیلیے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

اس حوالے سے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں‌ ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے، اس میں قدرت نے وہ تمام ضروریات رکھی ہیں جو ایک انسان کی صحت کیلئے بے حد ضروری ہیں۔
ممبر ریگولیٹری کمیٹی ڈیری ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ کیمکل ملا کھلا دودھ زہر قاتل ہے، یہ دودھ جسم کے اندرونی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس میں نظام ہاضمہ، نظام تنفس کی خرابی جگر اور پھیپڑوں کی بیماریاں شامل ہیں۔
پی ایم اے لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ چند ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کہیں بھی کھلا دودھ نہیں بکتا جن لوگوں کے گھروں میں اپنی گائے بھینسیں بھی ہیں ان کو ابھی اجازت نہیں کہ وہ دودھ نکالنے کے بعد مقررہ مراحل سے گزارے بغیر اسے استعمال کرسکیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیچے جانے والے مجموعی دودھ کا 80فیصد ملاوٹ شدہ ہوتا ہے، سستا اور گھٹیا مواد بشمول خشک دودھ، چینی، میلامین، فارملین، کاسٹک سوڈا، کپڑے دھونے والے پاﺅڈر، بناسپتی گھی، امونیم سلفیٹ، نمک، ہائیڈروجن پر آسائیڈ اور دیگر انسانی زندگی کے لیے خطرناک اشیا مصنوعی دودھ کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہیں۔
دودھ پیدا کرنے والے دودھ میں ساٹھ فی صد پانی استعمال کرتے ہیں، دودھ جمع کرنے والے53.5فی صد، گھر گھر جا کر دودھ تقسیم کرنے والے62.7فی صد جب کہ ڈیری کی دکانوں والے56.9فیصد پانی ڈالتے ہیں۔

خالص اور ملاوٹ شدہ دودھ کی پہچان کا طریقہ

بازار یا کسی گوالے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو یہ جان لیں کہ دودھ خالص ہے، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ کی گئی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں