ماہرین نے ماؤنٹ ایورسٹ کی نئی اونچائی دریافت کر لی

دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس کی نئی بلندی پر چین اور نیپال کا اتفاق بھی ہوگیا ہے۔
دنیا کے بلند ترین پہاڑ کی بلندی کے معاملے پر چین اور نیپال کی الگ الگ پیمائش تھی جبکہ گزشتہ برس چینی صدر کے نیپال کے دورے میں اعلان کے بعد چینی اور نیپالی ٹیمیں رواں سال ایورسٹ کی پیمائش میں مصروف تھیں۔
اس مشن پر چین کی 53 رکنی ٹیم پیمائش میں مصروف رہی تاہم اب دونوں ممالک نے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی کی ایک پیمائش پر اتفاق کرلیا ہے۔
اس حوالے سے ایک مشترکہ تقریب رکھی گئی جس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
نئی پیمائش کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 86 سینٹی میٹر ( ڈھائی فٹ سے زائد) اضافے کے بعد 8 ہزار 848 اعشاریہ 86 میٹر یعنی (29 ہزار 31 فٹ) ہوگئی ہے۔

اس سے قبل چین 1975 اور 2005 میں بھی ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش کرچکا ہے اور چین 2005 میں کیے گئے سروے کی بنیاد پر کہتا رہا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 8844.43 میٹر (29 ہزار 17 فٹ) ہے۔
دوسری جانب نیپال برطانوی نو آبادیاتی سروے کے مطابق اس کی اونچائی 8848 میٹر (29 ہزار 28 فٹ) قرار دیتا رہا۔
یوں دونوں ممالک نے سائنسی طریقے کے تحت نیپال کے دعوے سے 86 سینٹی میٹر اونچائی پر اتفاق کیا جو کہ چینی دعوے سے 4 میٹر زیادہ ہے۔
2015 میں نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں برفانی تودے سے ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔
اس زلزلے کے بعد ماہرین نے امکان ظاہر کیا تھا کہ ایورسٹ کی چوٹی سکڑ گئی ہے جبکہ بعض نے ارضیاتی تبدیلیوں کے باعث ایورسٹ کے مزید اونچے ہونے کا کہا تھا۔

اس حوالے سے نیپال کے سروے ڈپارٹمنٹ کے دھمودر دھکال کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کی سب سے اہم وجہ 2015 کا زلزلہ ہے۔

نیپال کے 300 ماہرین اور سروے والوں نے ایورسٹ کی پیمائش میں حصہ لیا، وہ گزشتہ موسم بہار میں 40 کلوگرام آلات اور سامان کے ساتھ چوٹی پر پہنچے تھے، انہیں گلوبل سیٹیلائٹ نیوی گیشن سسٹم کی بھی مدد حاصل تھی جبکہ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ کر 2 گھنٹے تک پیمائش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں