کینیڈا کی خاتون سیاح کا پاکستان میں قبولِ اسلام

کینیڈا سے تعلق رکھنی والی سیاح روزی گیبرئیل نے پاکستان کے سفر میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا ، سفر نامہ نگار یعنی ٹریول بلاگر کی حیثیت سے شہرت رکھنے والی روزی گیبرئیل نےاسلام قبول کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا میں نے اپنی زندگی میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کیا ، مجھے لگتا تھا کہ ساری دشواریاں خدا مجھے ہی کیوں دیتا ہے؟ مگر ا ب مجھے وہ مشکلات ایک تحفہ محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ ان کا کوئی مطلب تھا جومجھے یہاں تک لےکر آیا۔
اپنے سفرناموں سے شہرت پانے والی سیاح روزی گیبرئیل ، جو بہت سے ملکوں کا سفرکرچکی ہیں ، انہوں نے دسمبر میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کے بہت سارے علاقوں میں گھومیں پھریں۔ جمعرات کے روز انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔
ملکوں ملکوں تنہا پھرنے والی سیاح خاتون نے بہت سارے ملکوں کی سیاحت کی، ان کی بائیک ان کی ہمنشین ٹھہرتی جو انہیں شہر شہر بستی بستی گھماتی پھراتی ، پاکستان میں بائیک پر اپنے سفر کے دوران انہیں اسلام اور پاکستان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اسلام اور پاکستان سے ملنے والی محبت انہیں اسلام کے قریب لانےکا ذریعہ بنی۔

View this post on Instagram

I CONVERTED to ISLAM☪️ . What lead me to this Big decision? . As I mentioned previously, this last year was one of the hardest in my life, and all life’s challenges have led me to this point here and now. From a young child, I’ve always had a unique connection with creation and special relationship to God. My path was far from easy and I carried a lot of anger in my heart from a lifetime of pain, always begging God, why me? Until ultimately coming to the conclusion that all is meant to be, and even my suffering is a gift. . Never resonating with what I was brought up with, I denounced my religion 4 years ago, going down a deep path of spiritual discovery.Exploration of self, and the great Divine. I never let go the sight of the Creator, in fact, my curiosity and connection only grew stronger. Now no longer dictated by fear, I was able to fully explore this righteous path. . As time passed, the more I experienced, the more I witnessed the true nature and calling for my life. I wanted to be free. Free of the pain and shackles that was hell. Liberation from the anger, hurt and misalignment. I wanted peace in my heart, forgiveness and the most profound connection with all. And thus started my journey. . The universe brought me to Pakistan, not only to challenge myself to let go of the last remaining traces of pain and ego, but also to show me the way. . Through kindness,& humbled grace of the people I met along my pilgrimage, inspired my heart to seek further. Living in a Muslim country for 10 + years and traveling extensively through these regions, I observed one thing; Peace. A kind of peace that one can only dream of having in their hearts. . Unfortunately Islam is one of the most misinterpreted and criticized religions world wide. And like all religions, there are many interpretations. But, the core of it, the true meaning of Islam, is PEACE, LOVE & ONENESS. It’s not a religion, but a way of life. The life of humanity, humility and Love. . For me, I was already technically a “Muslim”. My Shahada was basically a re-dedication of my life to the path of Oneness, connection and Peace through the devotion of God. If you have any Q’s comment below

A post shared by Rosie (@rosiegabrielle) on

انہوں نے اسلام سے قریب ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال میرے لئے انتہائی مشکل تھا ، اور ساری زندگی مجھے جن چیلنجز کا سامنا رہا انہوں نے مجھے یہاں تک پہنچنے میں رہنمائی کی، ابتدائے بچپن سے ہی میرا فطرت کے ساتھ ایک خصوصی تعلق تھا، اور خدا کیساتھ گہرا رشتہ تھا، میری زندگی میں بے پناہ دشواریاں رہیں،بے انتہا بے چینی اور پریشانی سے میرا دل بھرا رہتا تھا ، میں یہ سوچتی تھی کہ خدا میرے ساتھ ہی یہ سب کچھ کیوں کرتا ہے لیکن اب مجھے لگتا ہے ان مشکلات کا کوئی مطلب تھا اور وہ سب دشواریاں اب ایک تحفہ محسوس ہوتی ہیں۔
انہوں نے اپنے قبول اسلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اب میں نے فطرت کو قریب سے دیکھا اور مجھے اس بے چینی سے نجات حاصل ہوئی جس نے مجھے برسوں سے گھیر رکھا تھا، مجھے اس غصےسے آزادی ملی جو میرے دل میں بھرا ہوا تھا، درد کی جگہ اب سکون نے لے لی ہے۔
گزشتہ برس 2019 میں جب وہ پاکستان کے سیاحتی دورے پر تھیں تو انہوں نے بہت سارے علاقوں کا سفر کیا ،لوگوں سے ملیں ، تہذیب اور ثقافت کا مشاہدہ کیا اور پھر پاکستان اور پاکستانیوں کے رویوں کی خوبصورتی نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے پاکستان کو حیرت انگیز ملک کا عنوان دے دیا ۔
تین سال پہلے اپنی جاب چھوڑ کر موٹر سائیکل پہ دنیا گھومنے کیلئے نکل کھڑی ہونے والی روزی گیبرئیل نے سفر کے دوران سوشل میڈیا کو اپنی کہانیاں بیان کرنے کا زریعہ بنایا، انہوں نے پاکستان کے سفر کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہر کسی نے مجھے بتایا تھا کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے ، ایک تنہا خاتون کا پاکستان میں سفر کرنا کافی نقصان دہ ہوسکتا ہے ، مگر ا ب میں ایک عینی شاہد کی حیثیت سے بتا سکتی ہوں کہ پاکستان میں ایک تنہا خاتون کا سفر کرنا کیسا ہے۔ انہوں نے ذکرکیا
ان گنت مسکراہٹیں ، زندگی کے لطف سے بھرپور سلام ،ایک سیاح خاتون کو لوگوں سے ملتے ہیں،جہاں پہ ٹھہرنا ہو لوگوں اور خاندانوں کی طرف سے ان کے گھر میں ٹھہرنے کی پیشکش کی جاتی ہے۔ دکاندار کوئی چیز خریدنے پر پیسے لینے سے انکار کر دیتے ہیں ، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں آپ ان کے ملک میں مہمان ہیں ۔
انہوں نے دنیا بھر میں میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے پاکستان کے منفی تاثر کو ٹھکراتے ہوئے لکھا کہ بہت سالوں سے پاکستان میں غیر ملکی سیاح نظر آنا بند ہوگئے ، مگر پاکستان کے لوگ انتہائی خوبصورت رویے سے پیش آتے ہیں ، پاکستان کے بارے میں پیش کیا جانے ولا تاثر یہ کہ یہاں کے لوگ انتہائی خطرناک ہیں ، مگر میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے جب میں ا ن کے خوبصورت رویے کا سامنا کرتی ہوں کہ ان کے بارے میں کیا کچھ کہا جاتا ہے جبکہ در حقیقت یہ لوگ کتنے اچھے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں