سپریم کورٹ نے کراچی کے تمام غیر قانونی بل بورڈز ہٹانے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس کا سخت اظہار برہمی

سپریم کورٹ نے کراچی سے فوری طور پر تمام بل بورڈز فوری ہٹانے کا حکم دے دیا، اور اس کے ساتھ ہی سخت برہمی کا اظہار بھی کیا . اور کہا کہ ملزمان ڈھونڈ کر لاؤ.
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اہم مقدمات کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے مقدمات کی سماعت کی۔
اس موقع پر غیر قانونی بل بورڈز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کمشنر کراچی کو طلب کیا گیا، اس وقت ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی افتخار شلوانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر صاحب آپ کے شہر میں جگہ جگہ بل بورڈ لگے ہوئے ہیں، شارع فیصل پر عمارتیں دیکھیں اشتہار ہی اشتہار لگے ہیں، وہاں رہنے والے لوگ کیسے جیتے ہوں گے؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ نے ان کے خلاف کیا کیا جو واقعہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے، جس پر کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی مافیا ہے بہت سارے ادارے ہیں یہ لوگ پبلک پراپرٹی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ سب کو فارغ کریں ،آپ کے پاس اختیار ہے، گورنمنٹ کا کام ہےبلڈنگ پلان پرعمل کرائے یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، کسی کے پاس پیسے ہیں تو وہ سب کر لیتا ہے، سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج اور محکمہ جاتی کارروائی شروع ہوگئی ہے،
چیف جسٹس نے کہا کہ ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ وزیرعلی کہاں ہیں؟

جس پر ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ ملزمان کو ڈھونڈرہے ہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہاں گئے وہ ملزمان کیا سمندر کے نیچے گئے ہیں؟ ،آدھے گھنٹے میں ملزمان کو ڈھونڈ کر لاؤ۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تمام سرکاری مقامات سے بھی بل اور سائن بورڈز ہٹائے جائیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس پیسہ ہے تو وہ سب کر لیتا ہے، کون ذمےدار ہے اس صورتحال کا؟
کون ذمہ دار ہے ٹوٹی سڑکوں ، کچرے اور اس تعفن کا؟ ایڈوکیٹ جنرل صاحب! بچے گٹرکے پانی میں روز ڈوب رہے ہیں، میری اپنی گاڑی کا پہیہ بھی گٹر میں پھنس گیا۔
لگتا ہے صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کی شہر سے دشمنی ہے، میئر کہتے ہیں کہ اختیار نہیں، ایسا ہے تو گھر بیٹھو، کراچی کو بنانے والا اب تک کوئی نہیں آیا، چیف جسٹس نے میئر کراچی سویم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا حال کیا ہے آپ نے میئر صاحب اس شہر کراچی کا؟
سپریم کورٹ کراچیئ رجسڑی میں سماعت کے موقع پر کراچی میں لوڈشیڈنگ پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ بجلی والوں کو مزے لگے ہیں، یہ سب مافیا ہیں، سب ایک دوسرے کو مارنے پر تلے ہیں،10،8لوگ روز مر رہے ہیں نیپرا کچھ نہیں کر رہی؟

انہوں نے کہا کہ جو کراچی کی بجلی بند کرتا ہے اس کو بند نہیں کرنے دیں، چوڑیاں پہنی ہیں سب نے کیوں کہ یہ ان کا پیسہ کھاتے ہیں، ہر وہ شخص جو کرنٹ لگنے سےجاں بحق ہوتا ہے اس کا مقدمہ درج ہونا چاہیے، ذمہ داران کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سی ای او کے الیکٹرک کو عدالت میں فوری طلب کرلیا۔ وزرا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، وزیراعلیٰ صرف ہیلی کاپٹر پرچکر لگاتے ہیں کرتے کچھ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں