بھارت میں‌86 سالہ معمر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے 86 سالہ عمر رسیدہ خاتون کو تشدد اور ریپ کا نشانہ بنانے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔
دہلی کمیشن فار ویمن کی سربراہ سواتی مالیوال نے بی بی سی کو بتایا کہ بزرگ خاتون پر پیر کو اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ دودھ والے کا اپنے گھر کے باہر انتظار کر رہی تھیں۔اس دوران حملہ آور نے انہیں یہ بتا کر دوسرے مقام پر لے جانے کی کوشش کہ کہ آج ان کا گوالا آج نہیں آئے گا۔
سواتی مالیوال کے مطابق مذکورہ شخص انہیں قریبی فارم ہاؤس لے کر گیا اور وہاں ان پر تشدد کیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سواتی مالیوال کا کہنا ہے کہ وہ معمر خاتون نے شور مچایا اور کہا کہ وہ اس کی دادی کی طرح ہیں لیکن اس شخص نے انہیں چھوڑا اور بری طرح تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا۔
اس دوران قریب سے گزرنے والے دیہاتیوں نے ان کی چیخیں سنی اور بچایا جب کہ حملہ آور کو بھی پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا
ایک مقامی سماجی کارکن کے مطابق وہ 86 سالہ بزرگ خاتون سے مل کر آئی ہیں، ان کے چہرے اور جسم پر زخموں کے نشان ہیں جبکہ وہ سخت صدمے کی حالت میں ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت خواتین سے زیادتی کے جرائم بھیانک صورت اختیار کر گئے ہیں، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق سنہ 2018 میں پولیس نے زیادتی کے 33 ہزار 977 کیسز ریکارڈ کیے جس کا مطلب ہے کہ ہر 15 منٹ میں ایک ریپ۔

تاہم اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کا گراف اس قدر بڑھتا جارہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران کرونا مریضوں کے ساتھ بھی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، گزشتہ ماہ کووڈ 19 کی مریضہ کو لے کر جانے والی ایمبولینس کے ڈرائیور نے انہیں راستے میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بھارت میں سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ دلی کو ریپ کیپیٹل کا نام وزیر اعظم نریندر مودی نے اس وقت دیا تھا جب وہ اپنی انتخابی مہم میں مصروف تھے اور انہوں نے زیادتی کا شکار خواتین کو انصاف دلانے کے وعدے کیے تھے۔

تاہم اب وہ اپنا وعدہ فراموش کرچکے ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی بے قابو اور ہولناک صورتحال کو حکومتی مشینری قابو کرنے میں ناکام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں