انڈونیشیا طیارہ حادثہ؛ بچوں‌ کے ساتھ سوار خاتون کا آخری دلخراش پیغام سامنے آ گیا

انڈونیشیا کے بدقسمت طیارے میں سوار ہونے والی خاتون کا آخری دلخراش پیغام سامنے آگیا۔ بدقسمت طیارے میں رتھی وندانیا نامی خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ سفر کررہی تھیں۔ انہوں نے ایئرپورٹ پر بچوں کے ساتھ اپنی آخری تصویر انٹرنیٹ پر شیئر کی تھی جس میں سب بہت خوش نظر آرہے تھے۔ انہوں نے انڈونیشین زبان میں اپنے اہل خانہ کو ’خدا حافظ‘ کہا اور بتایا کہ تھا کہ ’ہم اپنے گھر جارہے ہیں‘۔

رتھی کے بھائی عرفان سیا کا ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’ہم نے کوشش کی تھی کہ بہن اور بھانجے دوسری فلائٹ سے جائیں مگر آخری وقت میں رتھی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور اسی جہاز کے ٹکٹ لے کر گھر روانہ ہوئی‘۔ عرفان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے رتھی کا پیغام دلخراش ہے، ہم اس پیغام کو جب بھی پڑھتے ہیں سب رونے لگتے ہیں‘۔
ایک روز قبل انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے 10 بچوں سمیت 50 مسافروں اور 12 کریئو ممبران کو لے جانے والا مسافر طیارہ اڑان بھرنے کے بعد غائب ہوگیا تھا۔ بوئنگ بی737 نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر چالیس منٹ پر پروان بھری تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق 60 سیکنڈ بعد انہوں نے دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنیں تھیں۔
ایوی ایشن کے مطابق طیارہ جس وقت لاپتہ ہوا وہ جاوا سمندر کے اوپر تھا۔ بعد ازاں وہاں موجود ماہی گیروں نے ملبہ دیکھا اور متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جس کے بعد امدادی کارکنان جائے وقوعہ پر پہنچے۔

انڈونیشیا ایوی ایشن کے مطابق سریوجایا ایئرفلائٹ 182 کے طیارے کا 10 ہزار فٹ کی بلندی پر کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوا اور پھر یہ ریڈار سے بھی غائب ہوگیا تھا۔
انڈونیشیا کے مسافر طیارے کے حادثے کا مقام معلوم ہونے کے بعد امدادی کارکنوں کو بلیک باکس مل گیا ہے تاہم ابھی تک مسافروں کی لاشوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ انڈونیشن نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی کے سربراہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تباہ شدہ طیارے کے دو بلیک باکسز کا پتہ لگا لیا ہے جنہیں نکال کر مواصلاتی ریکارڈ چیک کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق جاوا کے سمندر سےجسمانی اعضا،کپڑےاور دیگر اشیا ملیں ہیں، ان اشیا کے برآمد ہونے کے بعد اس مقام پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کے صدر نے بھی مسافر طیارے کی جاوا سمندر میں گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے حادثے میں ہلاک افراد کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے بیان میں کہا کہ ہلاک افرادکےخاندان کے دکھ میں برابر کےشریک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں