مریم نواز کی نیب میں‌ پیشی ، پتھراؤ، تصادم ، ہنگامہ آرائی کا سبب کیوں‌بنی؟

مریم نواز کو طے شدہ شیڈول کے تحت آج نیب میں پیش ہونا تھا . اس موقع پر آج قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے باہر پتھراؤ،لاٹھی چارج ،نعرے ،شیلنگ اور بد نظمی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازپراپرٹی کیس میں بیان ریکارڈ نہ کراسکیں۔

نیب کے دفتر کے باہر پولیس اور مسلم لیگ ن کے کارکن آمنے سامنے آگئے ، پولیس کے آگے بڑھنے سے روکنے پر کارکن مشتعل ہوئے، پولیس سے تصادم اور پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے بھی جوابی کارروائی ، پتھراو اور لاٹھی چارج کیا۔
پتھراؤ سے مریم نواز کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ پولیس کے مطابق ن لیگی کارکن گاڑی میں پتھر لے کر آئے .اور ان کی طرف سے پتھراؤ شروع کیا گیا . جس کے بعد ن لیگ کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی پیشی سے قبل قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔

نیب آفس کے باہر ن لیگی کارکنوں کو آگے جانے سے روکنے پرپولیس اور ن لیگی کارکنان میں دھکم پیل ہوئی جب کہ لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ جس کے جواب میں پولیس نے بھی پتھراؤ اورشیلنگ کی۔

نیب لاہور نے مریم نواز کو رائے ونڈ میں خلاف قانون اور خلاف ضابطہ اراضی انتہائی سستے داموں خریدنے کے معاملے میں انکوائری کے لیے طلب کر رکھا تھا لیکن نیب دفتر کے باہر کشیدگی کی وجہ سے نیب نے مریم نواز کو واپس جانے کا کہہ دیا ۔ اور وہ اپنا بیان ریکارڈ نہ کرواسکی

لیکن مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز واپس جانے کی بجائے جاتی امرا رائے ونڈ سے ایک جلوس کی شکل میں نیب آفس پہنچیں۔

اس دوران پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش پر ن لیگی کارکن مشتعل ہوگئے جس کے بعد کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کے کارکنوں کی گاڑیوں میں پتھروں سے بھرے تھیلے بھی دیکھے گئے
مریم نواز کا کہنا ہے کہ انہیں بلایا گیا ہے تو اب سنا جائے، انہیں واپس جانے کے پیغامات ملے ہیں لیکن وہ نہیں جائیں گی۔

کچھ ہی دیر بعد نیب نے اس حوالے سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جسے پڑھنے کے بعد مریم نواز وہاں سے روانہ ہو گئیں۔
نیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مریم نواز کو ذاتی حیثیت میں مؤقف دینے کے لیے بلایا گیا تھا مگر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے منظم انداز میں غنڈہ گردی کرتے ہوئے پتھراؤ اور بدنظمی کا مظاہرہ کیا۔
نیب نے مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرنے فیصلہ کیا ہے۔

نیب اعلامیہ پڑھنے کے بعد جب مریم نواز وہاں سے روانہ ہوئیں تو پولیس نے وہاں موجود ن لیگی کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نےکارکنوں پر پولیس شیلنگ ، مریم نوازکی گاڑی پرپتھراؤ اور حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اور اسے قابل افسوس قرار دیا
اس واقعے کے بعد مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پر امن نہتے کارکنوں پر پتھر برسائے گئے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں مضحکہ خیز نوٹس بھیجا،،نوٹس میں ان پر ایک الزام نہیں تھا،ان پر نیب کا یہ تیسرا کیس ہے، پہلا اور دوسرا نیب کیس ختم ہوگیا، تیسرے کیس کا بھی یہی انجام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیب دفترکےباہرڈیڑھ گھنٹہ کھڑی رہیں لیکن نیب حکام اندر چھپے رہے، سوال وہ کرتا ہے جس کا کوئی کردارہو، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کے فیصلے اور ریمارکس نےنیب کےکردارپرمہرلگادی، رہی سہی کسر ہیومن رائٹس کی رپورٹ نے پوری کردی۔

مریم نے مزید کہا کہ ایسی نیب کےسامنے پیش نہ ہونا شاید قانون کی زیادہ پاسداری ہے، نیب کا اصول یہ ہے کہ ناانصافی صرف ہونی نہیں چاہیے، بلکہ ہوتی ہوئی نظر بھی آنی چاہیے، دہشتگردی صرف ہونی نہیں چاہیے،ہوتی ہوئی نظربھی آنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں