پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان سی سی پی او لاہور پر برس پڑے

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کی جانب سے موٹر وے ریپ کیس میں دیے گئے بیان پر سخت برہم ہوئے
سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خاتون کو اتنی رات کو موٹر وے سے نہیں جانا چاہیے تھا۔ یہ خاتون رات 12 بجے لاہور ڈیفنس سے گجرانولہ جانے کے لیے نکلی ہیں، حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہونے کے باجود وہ جی ٹی روڈ سے کیوں گجرانوالہ نہیں گئیں؟
عمر شیخ کے اس بیان پر پاکستانی عوام ، سول سوسائٹی کے بعد اب خود تحریک انصاف کے رہنما بھی تنقید کررہے ہیں۔
شیریں مزاری کے بعد تحریک انصاف کے علی محمد خان نے بھی عمر شیخ کے اس بیان پر برہم ہوگئے ہیں۔

علی محمد خان نے کہا کہ ’سی سی پی او کو شرم آنی چاہیے، اگر سی سی پی او اپنی ڈیوٹی نہیں کرسکتا تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سی سی پی او کو کسی نے اجازت نہیں دی کہ وہ اس طرح کے بیان دیں، انہیں کیا معلوم خاتون کیوں نکلیں، ہوسکتا ہے انہیں کوئی کام ہو‘
علی محمد خان نے کہا کہ ’رات کے 12 نہیں 3 بجے بھی لوگ نکلیں گے، ریاست کا کام ہے ان کا تحفظ کرنا، سی سی پی او اگر اپنا کام نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیا لیکن غلط باتیں نہ کریں‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور ہر پاکستانی کسی بھی وقت گھر سے باہر نکل سکتا ہے،

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے معاملے پر اپنے بیان پر معذرت کی ہے۔
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں شہزاد اکبرکاکہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور کو ان کے بیان پر وفاقی حکومت کے اعتراض سے آگاہ کردیا ہے۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ عوام کا تحفظ تمام سرکاری اداروں بشمول پولیس کی ذمہ داری ہے، خاتون سے زیادتی کے سنگین جرم میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، پولیس موٹروے واقعے کی گھتی سلجھانے کے لیے مستقل کام کررہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں