11 ستمبر قائداعظم محمد علی جناح کا یوم وفات

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے انتقال کو آج 72برس بیت گئے، ساری پاکستانی قوم علیحدہ وطن کا تحفہ دینے پرعظیم قائد کی ممنون ہے۔
آج گیارہ ستمبر اورقائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان کا یوم وفات ہے۔ آج جمعہ کا مبارک دن ہے اسے آپ حسین اتفاق سمجھیں یا قدرت کی رمز کہ اس سال 14اگست کا دن بھی جمعہ تھا اور 25 دسمبر قائداعظم کا یوم پیدائش بھی جمعہ کا دن ہو گا۔ اس حسن اتفاق میں یہ اضافہ بھی کر لیں کہ 16اکتوبر لیاقت علی خان کایوم شہادت بھی جمعہ کا دن ہو گا۔
قائداعظم بانی پاکستان اور ہمارے محسن اعظم ہیں جن کے لئے جتنی دعا اور ایصال ثواب کیا جائے کم ہے۔ افسوس کہ ہم نے قائداعظم کو بھی نہیں چھوڑا اور ان کے کوئٹہ و زیارت کے قیام سے لیکر 11ستمبر کو کراچی آمد تک کے عرصے سے بہت سی سازشی کہانیاں منسوب کر دی ہیں جنہیں پڑھ کر شدید دکھ ہوتا ہے کیونکہ یہ سارے افسانے بے بنیاد ہیں۔

قائداعظم سچے اور کھرے انسان تھے میں نے قائداعظم پر جتنی کتابیں پڑھی ہیں وہ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں جسے نہایت واضح انداز میں قائداعظم کے معالجین نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ یہ معالجین زندگی کے آخری دو ڈھائی ماہ قائداعظم کے نہایت قریب رہے اور قائداعظم نے بھی ان سے کھل کر دل کی باتیں کیں۔
ڈاکٹر ریاض علی شاہ اپنی ایک کتاب میں‌لکھتے ہیں کہ قائد اعظم ایک روز فرمانے لگے ’’پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے میری روح کو تسکین ہے کہ برعظیم میں مسلمان غلام نہیں وہ ایسی مملکت کے مالک ہیں جس کا مستقبل روشن ہے۔ ان شاءاللہ پاکستان دنیا کا عظیم ترین ملک بنے گا۔ یہ محسوس کر کے کہ میری قوم آزاد ہے، میرا سرعجزونیاز سے بارگاہ رب العزت میں جھک جاتا ہے۔
قائداعظم کی آنکھیں چمکنے لگیں، آواز بلند ہو گئی۔ فرمایا یہ مشیت ایزدی ہے، یہ حضرت محمد ﷺ کا روحانی فیضان ہے کہ جس قوم کو برطانوی سامراج اور ہندو سرمایہ دار نے حرف غلط کی طرح مٹانے کی سازش کر رکھی تھی آج وہ قوم آزاد ہے اس سے بڑھ کر خدا کا اور کیا انعام ہوسکتا ہے یہی وہ خلافت ہے جس کا وعدہ خداوند تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ سے کیا تھا خدا کے اس انعام عظیم کی حفاظت اب مسلمانوں کا فرض ہے۔‘‘
قائداعظم کے پاس جو ڈاکٹر تھے ان سے مزید باتیں کرتے ہوئے قائد اعظم فرمانے لگے چند سال قبل میری آرزو تھی کہ زندہ رہوں کہ جو کام قدرت نے میرے سپرد کیا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچاؤں، وہ فرض ادا کر چکا ہوں میں تھک گیا ہوں، آرام چاہتا ہوں گھبراؤ نہیں خدا پر اعتماد رکھو اپنی صفوں میں کج نہ آنے دو۔ ان شاءاللہ قدرت تمہیں مجھ سے زیادہ ذہین رہنما عطا کرے گی۔

یہ کہتے کہتے قائداعظم کی ایک آنکھ سے ایک موٹا سا چمکدار آنسو مسہری پر گرا اور انہوں نے کمبل سے منہ ڈھانپ لیا۔(قائد اعظم کے آخری لمحات از ڈاکٹر ریاض علی شاہ )ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے مطابق 11ستمبر 1948ء کو رات دس بجکر 25منٹ پر ان کا انتقال ہوا ان کے آخری الفاظ تھے ’’اللہ۔ پاکستان‘‘۔

مرتے دم بھی پاکستان کا خیال۔ پاکستان سے اس قدر محبت۔ سبحان اللہ
قائد اعظم ایک عظیم لیڈر تھے . جو سب پاکستانیوں‌کے دل میں‌بستے ہیں‌اور رہتی دنیا تک بستے رہیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں