آن لائن ٹيکسی ڈرائيور کے قتل کا معمہ حل

پولیس نے آن لائن ٹيکسی ڈرائيور کے قتل کے مرکزی ملزم طاہر کو گرفتار کرلیا ، ملزم طاہر نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی سے ملنے کیلئے رائيڈ بک کی تھی ،دير ہونے پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور اسی جھگڑے میں محمد علی کو گولی ماردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس نے آن لائن ٹيکسی ڈرائيور کے قتل کے مرکزی ملزم طاہر کو گرفتار کرلیا ، ملزم طاہر کو اس کے دوست محسن کی نشاندہي پرگرفتار کيا گيا۔
پوليس کا کہنا ہے کہ ملزم طاہر نے ٹيکسی ڈرائيور محمد علی کے قتل کااعتراف کر لیا ہے اور کہا کہ اس نے لڑکی سے ملنے کیلئے رائيڈ بک کی ،دير ہوئی تو ڈرائيور نے گاڑی سےاترنے کاکہا، اسی جھگڑے پر محمد علی کو گولی ماردی . ملزم کے بيان پر مزيد تفتيش کی جارہی ہے۔

گذشتہ روز پولیس نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کرنے والے ملزم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کیساتھ آخری رائیڈ لینے والا ہی قاتل نکلا ، ملزم طاہرزیر حراست محسن نامی شخص کا دوست ہے۔
گذشتہ ہفتے لاہور میں آن لائن ٹیکسی چلانے والے 26 سالہ علی کو نامعلوم افراد نے جان سے مار دیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ علی کی تین سال قبل شادی ہوئی تھی، اس کی دو سال کی بچی بھی ہے، بھوگیوال کا رہائشی علی آن لائن ٹیکسی چلانے کے لیے گھر سے نکلا تھا، لیکن واپس نہ آیا۔
مقتول کے پریشان حال والد نے تھانہ شالیمار میں اغوا کا پرچہ درج کرایا تھا،بعد ازاں لاہور کے علاقے ساندہ سے اس کی لاش ملی، مقتول کے غم سے نڈھال سسر کا کہنا تھا کہ علی کی تین سال قبل میری بیٹی سے شادی ہوئی، ملزموں نے ہماری زندگی کا آسرا چھین لیا۔
پولیس کے مطابق لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی تھی،اور قتل کے حوالے سے تفتیش جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں