اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری انتقال کر گئے

اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راحت اندوری میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ بھارتی شہر اندور کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ اس کے علاوہ وہ ذیابیطس، گردوں اور دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کے علاج کے دوران ہی انہیں دل کے 2 دورے پڑے جو جان لیوا ثابت ہوئے اور وہ دار فانی سے کوچ کرگئے۔
راحت اندوری نے انتقال سے کچھ ہی دیر پہلے سوشل میڈیا پر دعاؤں کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ٹوئٹر پر اپنی صحت کے حوالے سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

ان کے انوکھے اور پراثر انداز بیاں کی بناء پر دنیا بھر میں ان کے قدر دان موجود تھے۔ راحت اندوری کی کئی نظمیں اور شعر زبان زد عام ہیں اور ان کے شعربھارت کے سیاسی جلسے جلوسوں میں بھی ماحول کو گرما دیتے تھے
راحت اندوری نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی. وہ طویل عرصہ درس و تدریس سے وابستہ رہے، انہوں نے بالی وڈ فلموں کے لیے گیت بھی لکھے تھے جن میں ’مرڈر‘ اور ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کئی نظموں اور شاعری کے مجموعے لکھے ہیں۔

’افواہ تھی کہ میری طبعیت خراب ہے، لوگوں نے پُوچھ پُوچھ کے بیمار کردیا
دو گز سہی یہ میری ملکیت تو ہے، اے موت تُو نے مجھ کو زمیں دار کردیا‘

اپنا تبصرہ بھیجیں