آسٹریلیا میں کورونا کے حوالے سے نئی تحقیق

آسٹریلیا میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کرنسی نوٹوں اور موبائل فون کی اسکرین پر 28 دن تک متحرک رہ سکتا ہے۔
آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی سی ایس آئی آر او کا کہنا ہے کہ اس پہلے کی گئی تحقیقات کے برعکس اُن کی تحقیق میں کورونا وائرس کو محدود ماحول میں زیادہ عرصے تک متحرک دیکھا گیا۔
اگرچہ کورونا وائرس زیادہ تر کھانسی، چھینک اور بات چیت کے دوران پھیلتا ہے لیکن اس وائرس کے ہوا میں موجود ذرات سے پھیلنے کے شواہد بھی موجود ہیں۔
امریکا کے ادارے سینٹرل فار ڈیزیزکنٹرول کے مطابق یہ وائرس متاثرہ جگہوں یا سطحوں کو چھونے سے بھی پھیل سکتا ہے تاہم اس کے امکانات خاصے کم ہوتے ہیں۔
آسٹریلوی ایجنسی کے مطابق سارس کوو 2 یعنی کورونا وائرس 20 ڈگری سینٹی گریڈ پر پلاسٹ نوٹوں، شیشے اور موبائل فون کی اسکرین پر تقریباً 28 دن تک زندہ رہا۔
کورونا وائرس کی نسبت زکام کا وائرس انفلوئنزا اے ان سطحوں پر 17 روز تک زندہ رہ سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس تحقیق کو مکمل طور پر اندھیرے کمرے میں سرانجام دیا گیا تاکہ الٹراوائلٹ شعاعیں کے اثر کو زائل کیا جا سکے کیونکہ اس سے قبل ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ الٹراوائلٹ شعاعیں وائرس کو مار دیتی ہیں۔

تحقیق کے سربراہ شین ریڈل کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج ایک مرتبہ پھر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اس وبا کے دوران بار بار ہاتھوں کو دھونا یا انہیں سینیٹائزر سے صاف کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سطحوں کی صفائی بھی کس حد تک ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں