گروسری کے لیے جائیں‌ لیکن احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن نے آن لائن شاپنگ کو بے حد فروغ دیا تاہم لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد بازاروں کی رونقیں ایک بار پھر سے بحال ہوگئی ہیں۔ لیکن اس طرح کورونا کے بڑھنے کا خدشہ بھی بہت بڑھ گیا ہے . اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانی ضروری ہیں۔ تاکہ اس وبا سے بچا جا سکے اور جلد اس کو ملک سے ختم کیا جا سکے

گھر سے غیر ضروری طور پر نہ نکلنے کے باوجود گھر کا سودا سلف لانا ایسا کام ہے جو باہر جائے بغیر نہیں ہوسکتا، اسی کے پیش نظر امریکی ماہرین نے گروسری اسٹورز میں ان جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کرونا وائرس موجود ہوسکتا ہے۔
امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن نے لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد گروسری اسٹورز میں شاپنگ کے لیے کچھ سیفٹی گائیڈ لائنز جاری کی تھیں۔

سی ڈی سی کے مطابق گروسری اسٹورز میں مختلف اشیا کی پیکجنگ پر کرونا وائرس موجود ہوسکتا ہے تاہم کچھ جگہیں ایسی ہیں جو کرونا وائرس کا گڑھ ہوسکتی ہیں، جیسے کہ دروازوں کے ہینڈلز اور کریڈٹ کارڈ مشینز وغیرہ جہاں‌لوگوں کے زیادہ ہاتھ لگتے ہیں‌
سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ ان جگہوں کو چھونے سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے۔
سی ڈی سی نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر ان سطحوں پر وائرس موجود ہوگا تو وہ انسانی ہاتھ پر منتقل ہوسکتا ہے اور ان ہاتھوں کو چہرے، ناک یا آنکھوں پر لگایا جائے تو مذکورہ شخص کرونا وائرس کا شکار ہوسکتا ہے۔
سی ڈی سی نے ہدایت کی ہے کہ گروسری اسٹورز میں شاپنگ کے دوران مندرجہ ذیل سیفٹی گائیڈ لائنز کو اپنایا جائے۔
چہرے پر ماسک کا لازمی استعمال کریں اور گروسری اسٹور سے باہر نکلنے تک ماسک لگائے رکھیں۔
گ 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔
شاپنگ کارٹ لیتے ہوئے اسٹور عملے سے اصرار کریں کہ اس کا ہینڈل سینی ٹائز کیا جائے، ورنہ اپنے پاس سینی ٹائزڈ وائپ رکھیں اور یہ کام خود سر انجام دیں۔
ایسے اوقات میں جائیں جب کم سے کم افراد کے ہونے کا امکان ہو۔
وقفے وقفے سے ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال کرتے رہیں۔
گھر پہنچ کر نیم گرم پانی اور صابن سے 20 سیکنڈز تک ہاتھ دھوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں