چین کا 6 جی ٹیکنالوجی کی طرف قدم

چین نے ٹیکنالوجی کے دوڑ میں سبقت حاصل کرتے ہوئے 6 جی ٹیکنالوجی کیلئے سیٹلائٹ روانہ کر دیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق 6 جی ٹیکنالوجی فائیو جی سے سوگنا تیز ہو سکتی ہے، دنیا کی پہلی6 جی سیٹلائٹ کا شمار ان تیرہ دیگر سیٹلائٹس میں ہوتا ہے جنہیں مارچ میں سکس نامی گاڑی کے ذریعے خلائی مدار میں بھیجا گیا تھا۔ باقی سیٹلائٹس کمرشل مقاصد کے لیے بھیجی گئی ہیں اس کے علاوہ سکس جی پر تجربے کے لیے بھی مخصوص سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا ہے
چینی میڈیا کے مطابق سکس جی ٹیکنالوجی فائیو جی سے سوگنا تیز ہو سکتی ہے، دنیا کی پہلی 6 جی سیٹلائٹ کا شمار ان تیرہ دیگر سیٹلائٹس میں ہوتا ہے جنہیں مارچ میں سکس نامی گاڑی کے ذریعے خلائی مدار میں بھیجا گیا تھا۔ باقی سیٹلائٹس کمرشل مقاصد کے لیے بھیجی گئی ہیں اس کے علاوہ سکس جی پر تجربے کے لیے بھی مخصوص سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا ہے. چینی میڈیا کے مطابق بھیجے گئے مصنوعی سیارے میں آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سسٹم بھی موجود ہے جو فصلوں کی تباہ کاریوں کی نگرانی کرسکتا ہے ، سیلاب اور جنگل کی آگ کو روک سکتا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق چین کے شمالی صوبے شانشی کے تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے سکس جنریشن ٹیلی مواصلات کی ٹیکنالوجی کے حامل تجرباتی سیٹلائٹ کو زمین کے مدار میں بھیجا گیا، جدید ترین سیٹلائٹ کانام چین کی یونیورسٹی آف الیکٹرانک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ خلا میں سکس جی فریکوئنسی بینڈ کی کارکردگی کی تصدیق کے لئے استعمال ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں