بچوں میں کورونا ٹیسٹ لینے کے بعد مثبت آنے کی شرح‌کم کیوں‌ہے ؟

سائنسی جریدے نیچر میں مختلف تحقیقی رپورٹس کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ بچوں کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے خلاف اتنا فوری اور مؤثر ردعمل دیتا ہے کہ وائرس کو اپنی نقل تیار کرنے اور جسم میں پھیلنے کا موقع نہیں ملتا جب کہ اسی وجہ سے بچوں میں گلے یا ناک سے لیے گئے سواب ٹیسٹ مثبت نہیں آتے۔
جریدے میں آسٹریلوی شہر میلبرن میں قائم مرڈوک چلڈرن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں کورونا سے متاثرہ ایک خاندان پر تحقیق گئی۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ والدین کا پی سی آر ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود ان کے 10 سال سے کم عمر کے 3 بچوں میں 28 دنوں کے دوران 11 پی سی آر یا سواب ٹیسٹ منفی آئے حالانکہ بچوں کے خون میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز پائی گئیں اور صرف 2 بچوں میں کورونا کی معمولی علامات ظاہر ہوئیں۔
ماہرین نے تحقیق میں مزید دیکھا کہ ایسے بچے جن میں کورونا کی شدید علامات پائی گئیں ان میں بھی سواب ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 29 سے 50 فیصد تھی۔
جریدے نے تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ بچوں کی اینٹی باڈیز بالغوں میں پائی گئیں اینٹی باڈیز سے مختلف ہیں، بچوں میں جو اینٹی باڈیز پائی گئیں وہ کورونا کے انسانی جسم میں داخل ہونے والے اسپائیک پروٹینز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
جب کہ بالغوں میں اسپائیک پروٹینز کے ساتھ ایسے پروٹین کے خلاف بھی اینٹی باڈیز پائی گئیں جو وائرس کے جسم میں پھیلنے کے بعد بنتی ہیں۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کےبچوں کی اینٹی باڈیز نے وائرس کو جسم میں پھیلنے سے پہلے ہی ختم کردیا۔
ماہرین کے مطابق وائرس کے خلاف بچوں کے مدافعتی نظام کے جلد ردعمل دینے کی ایک وجہ ٹی سیل کا نیا پن ہوسکتا ہے ۔ جو جراثیم کیخلاف زیادہ متحرک ہوتا ہے ۔ بچوں کی ناک میں ایسے ریسپٹر بھی کم ہوتے ہیں جن کے ذریعے کورونا وائرس انسانی جسم میں پھیلتا ہے ۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں