اقوام متحدہ کی 75 سالہ تقریب میں پاکستانی نوجوان احسن کامرے کا خطاب

مسئلہ کشمیر اور فسطین کے حل اور دنیا کو ہتھیاروں سے پاک کیے بغیر عالمی ترقی ممکن نہیں
نائجیریا(پ ر) اقوام متحدہ والنٹیرز تنظیم کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے 75 سال مکمل ہونے اور نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے پاکستانی سماجی کارکن و نوجوان رہنما احسن کامرے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اس سال اپنی 75 ویں سالگرہ منا رہا ہے مگر کشمیر اور فلسطین آج بھی اپنی آزادی کیلئے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں ناکام رہا ہے۔ آج یہاں یہ بات کی جارہی ہے کہ 2045ءمیں جب اقوام متحدہ اپنے 100برس مکمل کرے گا تو دنیا کیسی ہوگی؟ میرے نزدیک اگر دنیا کو ہتھیاروں اور جنگوں سے پاک نہ کیا گیا تو دنیا اس وقت بدترین حالات سے گزر رہی ہوگی، ہتھیاروں کے بجائے لوگوں کو پر خرچ کیے بغیر بہتر دنیا کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ تقریب کے آغاز میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ویڈیو پیغام چلایا گیا جس میں انہوں نے دنیا بھر کے نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور انہیں آگے بڑھ کر کام کرنے کی تلقین کی۔ تقریب میں یواین 75 اور یواین والنٹیئرز سمیت آسٹریلیا،مصر، عراق، نائجیریا، بھارت اور برما سے چنے جانے والے سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی خطاب کیا۔ پاکستانی نوجوان احسن کامرے نے مزید کہا کہ دنیا ہتھیاروں کے بجائے انسانوں پر زیادہ خرچ کرے، حکومت پاکستان نوجوانوں کے روشن مستقبل کیلئے اقدامات کر رہی ہے، مفت تعلیم، پروفیشنل کورسز، کاروبار کیلئے بلازسود چھوٹے اور کم شرح سود پر بڑے قضے دیے جارہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا کامیاب جوان پروگرام بہترین ہے، مجھے امید ہے کہ اگر حکومت پاکستان اسی طرح نوجوانوں پرتوجہ دیتی رہی تو پاکستان کی نوجوان نسل 2045ءمیں دنیا کی بہترین یوتھ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون ہے، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے، ایسے حالات میں ہم کیسے تصور کرسکتے ہیں کہ 2045ءمیں جب اقوام متحدہ کو 100برس مکمل ہونگے تو اس وقت دنیا بہتر ہوگی، اقوام متحدہ تو آج بھی اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں ناکام رہا ہے، عالمی امن کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ ہے، پانی کا مسئلہ بھی دنیا میں سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ دنیا اس حوالے سے ٹریک پر نہیں ہے اور نہ ہی پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے اس طرح کام ہورہا ہے جیسے ہونا چاہیے ، اگر پانی کا مسئلہ حل نہ کیا تو گیا تو 2040 میں 600ملین بچے پانی کے حوالے سے شدید دباﺅ والے علاقوں میں زندگی گزار رہے ہونگے، اس طرف توجہ دینا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں