اپرچونیٹی کلب کے زیر اہتمام ”پاک لبنان یکجہتی سمٹ“ کا انعقاد

لاہور: اپرچونیٹی کلب کے زیر اہتمام پاکستان کے پہلے ”پاک لبنان یکجہتی سمٹ“ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان اور لبنان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبرداروں اور نامور شخصیات نے شرکت کی۔ جس میں سربراہ کلب احسن کامرے، روزی رضوی، سیم لاہود، فرح گھینم، محسن کمال و دیگر نے خطاب کیا ،
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی مقررین کا کہنا تھا کہ ایک لمحے میں سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا،ہر طرف تباہی ہے، دھماکوں کی وجہ سے 3 لاکھ لبنانی بے گھر ہوچکے ہیں، کورونا وائرس کے اثرات اور معاشی بدحالی کی وجہ سے ہمیں اس صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے،ہم مدد کیلئے بیرون ملک مقیم لبنانیوں اور دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہم اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کیلئے پر امید ہیں ۔ پاکستانی مقررین نے اس موقع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور بیروت دھماکوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ سمٹ میں لبنان سے بیروت فلم سوسائٹی کے صدر سیم لاہود، سٹی سائٹ سینگ ٹوور بس لبنان کی سی ای او اور سماجی کارکن ویوی آن نصر، یو این ڈی پی لبنان کی ایڈوائزری بورڈ ممبر فرح گھینم ،فٹبالر مہدی ہلال جبکہ پاکستان سے سربراہ اپرچونیٹی کلب احسن کامرے، ایگزیکٹیو ممبر سیدہ روزی رضوی اور یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے رکن ڈاکٹر محسن کمال نے شرکت کی۔ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ اپرچونیٹی کلب احسن کامرے نے کہا کہ بیروت دھماکوں سے ہونے والی تباہی نے درد دل رکھنے والوں کو غمگین کر دیا ہے، آج کا یہ سمٹ ملکی تاریخ ہی نہیں بلکہ دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد سمٹ ہے جو لبنان کے ساتھ یکجہتی کیلئے منعقد کیا گیا ہے، یہ اقوام متحدہ اور اپرچونیٹی کلب کے ’بہتر دنیا بنانے کے مشن‘ کے عین مطابق ہے، اس مشکل گھڑی میں پاکستانی اپنے لبنانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

عالمی ایوارڈ یافتہ لبنانی فلمساز و سربراہ بیروت فلم سوسائٹی سیم لاہود نے کہا کہ ایک لمحے میں ہم 30 برس پیچھے چلے گئے، ماڈرن لبنان کیلئے کی گئی تمام جدوجہد اور ترقی زمین بوس ہوگئی، دھماکہ اتنا بڑا اور شدید تھا کہ بیروت میں کچھ نہیں بچا، ہر طرف تباہی، لاشیں، زخمی اور بے گھر افراد موجود ہیں، ہسپتالوں میں جگہ نہیں، رہنے کیلئے چھت نہیں ، کھانے کیلئے خوراک نہیں ، ہماری تنظیم فلم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بحالی کیلئے کام کر رہی ہے۔
سٹی سائٹ سینگ ٹوور بس لبنان کی سی ای او اور سماجی کارکن ویوی آن نصرنے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہم پہلے ہی مشکل میں تھے، ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے، ایسے میں بیروت دھماکوں نے سب کچھ مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، ہماری امید ختم ہو چکی ہے، دنیا بھر میں موجود لبنانی اور انسانیت دوست افراد ہماری مدد کریں۔
یو این ڈی پی لبنان کی ایڈوائزری بورڈ ممبر فرح گھینم نے کہا کہ ابھی تک ہم پر سکتہ تاری ہے، یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ کس طرح سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا، دھماکوں کی اصل وجہ ابھی معلوم نہیں مگر جو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ 3 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔
لبنانی فٹبالر مہدی ہلال نے کہا کہ ہیرو شیما، ناگا ساکی کے بعد بیروت دھماکہ سب سے بڑا ہے ،ملک بھر سے ہمارے شہری متاثرین کی مدد کیلئے میدان میں ہیں ، ہم دنیا کی جانب سے مدد پر مشکور ہیں۔
ایگزیکٹیو ممبر اپرچونیٹی کلب سیدہ روزی رضوی نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کا طبل بجایا گیا ہے،مسلم امہ کو اب جاگنا ہوگا، دنیا ہمیشہ سے عالم اسلام پر تنقید کرتی رہی ہے، اب وقت ہے کہ ہم متحد ہوکر ان سب کا مقابلہ کریں۔
یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کے رکن ڈاکٹر محسن کمال نے کہا کہ دل خون کے آنسو رو رہا ہے، میری دعائیں اور نیک تمنائیں لبنانیوں کے ساتھ ہیں، حکومت پاکستان کی طرف سے لبنان میں مدد بھیجنا خوش آئند ہے، امن کے مسائل حل کرنے کیلئے یوتھ کو آگے آنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں