لاہور موٹر وے ریپ کیس کا مبینہ مرکزی ملزم عابد تاحآل پولیس کی گرفت سے دور

لاہور موٹر وے ریپ کیس کا مبینہ مرکزی ملزم عابد اشتہاری مجرم نکلا اور اس کی وارداتوں کا ریکارڈ بھی سامنے آگیا۔ لیکن ملزم تاحال پولیس کی پہنچ سے دور ہے . جس کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے. اور پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ملزمان لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں مطلوب ہیں، اگر کسی کے پاس دونوں سے متعلق معلومات ہیں تو پولیس نمبر 15 پر اطلاع دیں۔
ملزم عابد نے 2013 میں خاتون اور اس کی بیٹی سے زیادتی کے بعد متاثرہ خاندان سے صلح کرلی تھی لیکن جرائم سے باز نہ آیا تو علاقے سے نکال دیا گیا۔
2013 سے 2017 تک زیادتی اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے 8 پرچے کٹے اور 8 سال میں کئی مرتبہ گرفتار ہوا مگر ضمانت پر رہا ہوگیا۔
عابد آخری بار 8 اگست 2020 کو گرفتار ہوا مگر چند دنوں بعد ہی ضمانت ہوگئی۔
ملزم عابد شہریوں کی جان و مال سے کھیلتا رہا مگر سزا کیوں نہ مل سکی؟ شہریوں نے نظام انصاف پر سوال اٹھا دیے۔

دوسرا ملزم وقار الحسن بھی ڈکیتی کی 2 وارداتوں میں ملوث نکلا اور دو ہفتے قبل ہی ضمانت پر رہا ہوا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق 27 سالہ عابد کا تعلق بہاول نگر سے ہے، وہ لاہور آتا جاتا رہتاہے، ملزم عابد اشتہاری مجرم ہے کئی وارداتوں کا ریکارڈ ہے۔ ملزمان تاحال فرار ہیں اور اس کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موٹروے زیادتی کیس:‌ ملزمان کی نشاندہی کے بعد ایک ملزم وقار الحسن نے گرفتاری دیدی

اپنا تبصرہ بھیجیں