موٹروے زیادتی کیس : گرفتار شفقت کا خاتون سے زیادتی کا اعتراف، ڈی این اے میچ کر گیا

گجرپورہ زیادتی کیس میں گرفتار شفقت نے خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا جبکہ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت کاڈی این اے بھی میچ کر گیا۔
تفصیلات کے مطابق گجرپورہ زیادتی کیس میں گرفتار شفقت نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا، جس میں شفقت نے اعترف کیا ہے کہ نوستمبر کو وہ اور عابد ڈکیتی کی غرض سے کار کے پاس گئے، پہلےخاتون سےلوٹ مار کی اور پھرزیادتی کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت کاڈی این اے میچ کر گیا، حتمی رپورٹ جلد اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی جائے گی۔

گرفتار شفقت علی نے دوران تفتیش اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے رابطے کچے کے مقام تک ہیں ، پولیس کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد گینگ کچے کے علاقے میں روپوش ہوتا ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ وقارالحسن نے بھی متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے ، وقار موٹر سائیکلیں چوری کرکے اسپیر پارٹس بلال گنج مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا، مرکزی ملزم عابدکو بھی بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ملزم شفقت اورعابد پنجاب میں مختلف گینگزکے ساتھ منسلک ہیں۔ دونوں نے مل کرگیارہ وارداتیں کیں جبکہ ملزم شفقت کاخاندان پہلے بھی جرائم میں ملوث رہا ہے۔
شفقت کا والد اللہ دتہ بھی پولیس کی حراست میں ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل سم اللہ دتہ کے نام پرہے جو بیٹا استعمال کررہاتھا،شفقت کو گرفتار کرکے آج ڈی این اے کرایاگیا، رپورٹ آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
شفقت کی گرفتاری کے بعد کیس کے مرکزی ملزم عابد پر بھی گھیراتنگ ہوگیا ہے اور پولیس عابدکی تلاش میں جگہ جگہ چھاپےمار رہی ہے جبکہ عابد کے والداوردوبھائیوں سےتفتیش جاری ہے۔
ملزم شفقت کی تفصیلات کیا ہیں‌؟
ملزم شفقت بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد کا رہائشی ہے اور 6 ماہ پہلے پورا خاندان علاقہ چھوڑ گیا لیکن ان کی دہشت آج بھی ختم نہیں ہوئی۔
اہل علاقہ کے مطابق پورا خاندان ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہے اور انہوں نے علاقے میں خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی، اہل علاقہ ان کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔اہل علاقہ نے بتایا کہ ملزم شفقت اور اس کا بھائی بابر بھی عابد کے ساتھ وارداتوں میں ملوث تھے، 2019 میں شفقت کے بھائی بابر نے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کے ساتھ ایک بیوہ خاتون کے ساتھ واردات کی اور ضمانت پررہا ہو کر آیا تو متاثرہ خاتون کے خاندان کو دھمکیاں دیتا رہا۔
ملزم شفقت کے آبائی گاؤں میں لوگ ابھی تک اُن سے ڈرے ہوئے تھے اور زبان کھولنے سے کتراتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 6 ماہ پہلے شفقت اپنے باپ اللہ دتہ اور بھائی بابر کے ساتھ یہاں سے نکل گیا، انہیں معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہیں۔؟

اس سے قبل کیس کے نامزد ملزم وقارکے برادرنسبی عباس نے بھی شیخوپورہ میں پولیس کو گرفتاری دی تھی ، عباس نے ویڈیو بیان میں جرم ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بے گناہ ہوں،خودکوپولیس کےسامنےپیش کر رہا ہے،امیدہے پولیس ناجائزنہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں