اسلام آباد میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنائے جائیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وفاقی دارالحکومت میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنانے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ہوئی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹوائلٹس کا کیا بنا؟ جس پر کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ 100 پبلک ٹوائلٹس بنا رہے ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ 100 ٹوائلٹس سے کیا ہو گا؟ سڑک کے ساتھ ہر ایک کلو میٹر کے بعد پبلک ٹوائلٹ ہونا چاہیے۔
کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ 100 میں سے 10 بنا دیے ہیں، باقی ٹوائلٹ بنائیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں 500 پبلک ٹوائلٹس بنائیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلیو ایریا میں سروس روڈ پر پارکنگ ایریا بنا ہوا ہے، سڑک کے قریب پارکنگ کی اجازت نہیں ہو گی۔
کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ آج ہی آئی جی اسلام آباد کو عدالت کے حکم سے آگاہ کر دیں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں شاپنگ مالز اور مارکیٹس میں پارکنگ ایریا نہیں ہے، شاپنگ مالزختم کر دیں یا ان سے کہیں اپنی پارکنگ کی جگہ بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلیو ایریا میں نئی عمارتیں بن رہی ہیں، شاید ان میں پارکنگ کی جگہ نہیں رکھی گئی، جس پر کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے تمام نئی بلڈنگ مالکان سے کہہ دیا ہے کہ اپنی پارکنگ بنائیں۔ پارکنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے ماہرین کی خدمات لے رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں