عابد ملہی کو کیمپ جیل میں بند کر دیا گیا

موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو کیمپ جیل لاہور کی چکی میں تنہا بند کر دیا گیا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ڈرا سہما رہا، لگتا تھا کہ ہر فرد پولیس والا ہے اور اسے پہچانتے ہی گولی مار دے گا، گرفتاری کے بعد پہلی بار اچھی طرح سویا ہوں۔ جیل حکام کہتے ہیں کہ مرکزی ملزم عابد ملہی کو کیمپ جیل کی چکی میں اکیلا رکھا گیا ہے، شناخت پریڈ ہونے تک ملزم کو فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی۔
ملزم عابد ملہی کا کہنا ہے کہ اُس نے ایک مہینے بعد پہلی بار پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور سکون کی نیند بھی سویا، اس سے قبل مسلسل بے چین اورخوف زدہ رہا، اس کی طرف جوبھی دیکھتا، وہ پولیس والا ہی لگتا، یوں محسوس ہوتا تھاکہ وہ دیکھتے ہی پہچان لے گا اور گولی مار دے گا۔

عابد ملہی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ گرفتاری سے قبل والدین سے ملنا چاہتا تھا، یہ خواہش پوری ہو گئی،گرفتاری کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگا ہوں، عدالت جو بھی سزا دے گی قبول کروں گا۔
دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے موٹر وے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتارکرنے والی پولیس ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تعریفی اسناد تقسیم کیں۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق موٹر وے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر تعریفی اسناد حاصل کرنے والوں میں انچارج سی آئی اے سول لائنز جاوید حسین اورانچارج سی آر او حسین فاروق شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سب انسپکٹر امانت علی، منیر احمد، اسسٹنٹ سب انسپکٹر خلیل، ایس آئی نصیر احمد، کانسٹیبل یاسین اور شہباز نے بھی تعریفی اسناد حاصل کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں