چہرے پر استعمال ہونے والے فلرز ار انجکشن پر پابندی

برطانیہ میں 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے ہونٹوں پر فلرز اور چہرے کی خوبصورتی کیلئے خطرناک فیشیل انجیکشنز لگوانے پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی سیاست دانوں کی جانب سے نوجوانوں کے خطرناک فیشیل انجیکشنز اور لِپ فلرز لگوانے پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کاسمیٹکس پروسیجر سے نوجوانوں کو انفیکشنز، ٹشو ڈیتھ اور اندھا ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

کنزرویٹو پارلیمنٹیرین لورا ٹروٹ 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو لِپ فلرز اور انجیکشنز لگوانے کو جرم قرار دینے والے بل کی سربراہی کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ کاسمیٹکس پروسیجر نوجوانوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر کے ایک لاکھ کے قریب نوجوان کاسمیٹکس پروسیجر کراتے ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ نے نوجوانوں کے درمیان کاسمیٹکس پروسیجر کے عام ہونے کی وجہ سوشل میڈیا کو ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ اس بل کی حمایت بھی کی ہے۔
حال ہی میں چین کے شہر ہینگ ژہو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے کاسمیٹک کلینک سے چہرے کی جھریوں کو ماند کرنے کے لیے ’رنکل فلرز‘ لگوائے جس کے بعد ان کا منہ ٹیڑھا ہوگیا۔

29 سالہ ژہاؤ نے مقامی کاسمیٹکس اسپتال سے چہرے پر جھریاں ختم کرنے والے فلرز انجیکشن لگوائے تھے جس کو لگوانے کے ایک ہفتے بعد خاتون جب صبح سو کر اٹھیں تو ان کا آدھا منہ مفلوج تھا۔

خاتون کا آدھے منہ مفلوج ہونے کی وجہ سے وہ اپنا منہ اور بائیں آنکھ ٹھیک سے بند بھی نہیں کر پا رہیں جب کہ انہیں کھانا تک چبانے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ پانی بھی اسٹرا کے ذریعے پی رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں