بچوں میں ذہانت ماں‌سے منتقل ہوتی ہے ، ماہرین

ذہانت ایک تحفہ خداوندی ہے اور اگر کوئی شخص اپنی ذہانت کو محنت، مستقل مزاجی کے ساتھ ملا کر استعمال کرے تو ایسے شخص کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ایک عمومی خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ذہانت موروثی ہوسکتی ہے اور یہ خاندان کے مختلف افراد سے منتقل ہوسکتی ہے، تاہم حال ہی میں ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ذہانت انہیں ان کی ماں کی طرف سے ملنے والا تحفہ ہوتا ہے۔
جرمنی میں کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق کسی بچے کی ذہانت کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کی والدہ کتنی ذہین ہیں، یعنی ذہانت والد یا کسی اور سے نہیں بلکہ ماں سے منتقل ہوتی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ ذہانت کے جینز کروموسوم ایکس میں واقع ہوتے ہیں اور خواتین میں 2 ایکس کروموسومز موجود ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بچوں میں ماں کی جانب سے ذہانت کی منتقلی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔
اس کے برعکس مردوں میں صرف ایک ایکس کروموسوم ہوتا ہے لہٰذا والد سے ذہانت کی منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے، تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ باپ کے ذہانت کے جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
سنہ 1994 میں کی جانے والی ایک تحقیق سے علم ہوا کہ بچوں کی ذہانت یا آئی کیو کی پیشگوئی ماں کے آئی کیو سے کی جاسکتی ہے۔

جینیاتی عوامل کے علاوہ بھی دیکھا جائے تو بچوں کی زندگی کا وہ وقت جب ان کا دماغ نشوونما پا رہا ہوتا ہے، یعنی بچپن کا وقت بچوں کا زیادہ تر ماں کے ساتھ گزرتا ہے۔ اور اس دوران بچے اپنی ماں سے زیادہ سیکھتے ہیں ایسے میں ماں کی ذہانت، عادات و فطرت بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

چنانچہ ایک ذہین ماں بچوں کی پرورش بھی نہایت دانشمندانہ انداز میں کرتی ہے۔ بچوں کی شخصیت و دماغ کی تعمیر والدہ کی ذہانت کا عکس ہوتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں