کورونا وائرس پر بننے والی دستاویزئ فلم ’76 ڈیز‘ نمائش کے لیے پیش کر دی گئی

کورونا وائرس کے مرکز ووہان پر بنی فلم ’76 ڈیز‘ کو ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق چین کے شہر ووہان میں جاری سخت لاک ڈاؤن کے دوران چین کے 2 فلم ساز وبا سے بچاؤ کا حفاظتی لباس پہنے ووہان کے ان اسپتالوں میں عکس بندی میں مصروف رہے جہاں مریضوں کا بے پناہ رش تھا۔
فلم سازوں نے ایسی دل دہلا دینے والی ویڈیوز کی عکس بندی کی جن میں وبا کے خوف میں مبتلا شہریوں کو اسپتالوں کے دروازے پیٹتے، طبی عملے کو تھکن سے بے حال ہوتے اور کورونا سے متاثرہ افراد کے رشتہ داروں کو اپنے پیاروں کے لیے روتے تڑپتے دیکھا گیا۔
ان تمام ویڈیوز اور تصاویر کو نیویارک میں مقیم ڈائریکٹر ہاؤوو نے ایڈٹ کیا اور فلم کی شکل میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں پیش کیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں ’76 ڈیز‘ کے عنوان سے بنائی گئی اس فلم کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

فلم کا نام چین کے شہر اور کورونا وائرس کے مرکز ووہان میں 76 دن تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن پر رکھا گیا جو وبا کے اصلی مرکز سے تھیٹر میں پیش کی جانے والی پہلی بڑی دستاویزی فلم ہے۔
سینما کی طرز پر بند جگہوں سے خوف کے عالم میں بنی اس فلم میں آواز یا انٹرویوز کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کا انحصار ایک نئی اور خوفناک حقیقت سے نمٹتے ڈاکٹرز اور مریضوں کی فوٹیجز پر ہے۔
ہاؤ وو نے پہلے ان دونوں فلم سازوں سے رابطہ کیا تھا جن میں سے ایک نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنی چاہی تھی کیونکہ وہ نئے چینی سال کے موقع پر چین گئے تھے جہاں انہوں نے ووہان میں نافذ سخت ترین لاک ڈاؤن دیکھا تھا۔

دونوں افراد کی جانب سے ہاؤ وو کو بھیجی گئی فوٹیج میں انکشاف ہوا کہ کس طریقے سے اس نامعلوم بیماری کے ابتدائی ہفتوں میں افراتفری کے دوران وہ ہر جگہ رسائی حاصل کرنے کے قابل تھے لیکن ساتھ انہیں ذاتی خطرات اور مشکلات کا بھی سامنا تھا۔
تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ فلم چین میں بھی دکھائی جا سکے گی یا نہیں کیونکہ وہاں عالمی وبا کے حوالے سے خبروں کو پہلے دن سے کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں