سٹیزن شپ بل: بھارت بھر میں احتجاج کی لہر

بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے حوالے سے متنازعہ بل سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں احتجاج کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی بل پیش کیا گیا۔ جس کو طویل بحث کے بعد ایوان زیریں میں کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ واضح رہے کہ متنازعہ بل پر 12 گھنٹے بحث ہوتی رہی جس کے بعد حکمران جماعت بی جی پی کی اکثریت نے اس کو منظور کروا لیا۔ اس بل کے مطابق افغانستان پاکستان اور بنگلہ دیش سے انڈیا منتقل ہونے والے تارکین وطن کو بھارتی شہریت دی جائے گی، لیکن مسلمان تارکین وطن کو شہریت نہیں دی جائے گی۔

31 دسمبر 2014 سے قبل بھارت منتقل ہونے والے وہ افراد جو ہندو، عیسائی، سکھ یا بدھ ہیں ان کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ مسلمانوں کیلئے یہ سہولت نہیں ہوگی ۔ اس بل کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند ہندو رہنماؤں کی طرف سے بھی اس بل کی بھر پور مذمت کی جا رہی ہے۔

چنانچہ جہاں ایک طرف مسلمان رہنما اکبرالدین اویسی نے پارلیمنٹ میں مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے بل پھاڑ ڈالا تو دوسری طرف راہول گاندھی جو کہ کانگریسی رہنما ہیں، انہوں نے اس بل کی منظوری کو بھارتی آئین پر حملہ قرار دیا ہے۔

اکبرالدین اویسی نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں گاندھی جی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے افریقہ میں امتیازی سٹیزن شپ کارڈ پھاڑ ڈالا تھا، لہذا میں انہی کے طرز عمل کو دہراتے ہوئے اس امتیازی بل کو پھاڑ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا یہ بل آئین اور قانون کے خلاف ہے، اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا اور نفرت کی آگ بھڑکانا ہے۔

دوسری جانب کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اور ششی تھرور، جو کہ سابق مرکزی وزیر ہیں انہوں نے بھی بل کی شدید مذمت کی ہے۔ ششی تھرور نے بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سٹیزن شپ ترمیمی بل کی منظوری کا مطلب یہ ہوگا کہ محمد علی جناح کا نظریہ جیت رہا ہے اور مہاتما گاندھی کا نظریہ ہار رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں