میانمار: ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

عالمی عدالت انصاف نے میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کو طلب کر رکھا ہے، میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی طویل زمانے تک امن کا استعارہ بنی رہیں، انہیں امن کیلئے دی گئی قربانیوں پر نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا، مگر کیا ہے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، انسان ایک سے نہیں رہتے۔ کل جو آنگ سان سوچی امن کا استعارہ قرار پائی تھیں آج وہ جبر کا، ظلم کا اور قتل کا استعارہ بننے جا رہی ہیں، وہ عالمی عدالت انصاف میں میانمار فوج کی جانب سے کیے جانے والے بہیمانہ قتل عام کا دفاع پیش کر رہی ہیں۔

انہیں کل تک امن کی دیوی کے روپ میں دیکھنے والے آج اس منظر پر ششدر نہیں ہیں، کیونکہ ان کا یہ روپ دیکھنے والوں کیلئے نیا نہیں، میانمار میں جاری بربریت کا اندھا رقص اور اس رقص کی خاموش داد دہی کا کردار طویل عرصے سے آنگ سان سوچی ادا کر رہی ہیں۔
7 لاکھ چالیس ہزار انسانوں کو گھر سے بے گھر کیا جانا، ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کا ہونا، ہزاروں جوانوں بوڑھوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا منظر دنیا دیکھ رہی ہے، اور آنگ سان سوچی کوشش کر رہی ہیں کہ اس ہولناک منظر کی ہولناکی کو جس قدر ہو سکے دبا دیا جائے۔
مغربی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک گیمبیا نے عالمی عدالت انصاف میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ مقدمہ درجنوں مسلم ممالک کی تائید کے ساتھ دائر کیا گیا ۔ جس پر میانمار کی رہنما اپنے ملک میں ہونے والے بہیمانہ اقدامات کا دفاع پیش کرنے کیلئے عدالت میں حاضر ہوئی ہیں۔
ان کے ملک پر عائد مسلم نسل کشی کا الزام عالمی عدالت انصاف میں اگر ثابت کردیا جاتا ہے اور عالمی عدالت اس معاملے میں میانمار کے خلاف فیصلہ دے دیتی ہے تو یہ میانمار کی ساکھ اور معیشت کیلئے غیر معمولی نقصان ہوگا۔ اگرچہ عالمی عدالت انصاف کوئی ایسا اختیار نہیں رکھتی کہ وہ اپنے فیصلے کو میانمار میں طاقت کے زور پر نافذ کروا سکے مگر فی الحال گیمبیا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ روہنگیا متاثرین کےلئے کم از کم مزید کسی بربریت سے پناہ حاصل کر لی جائے۔ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے میں اب بھی کئی سال لگ جائیں گے۔
2017 میں ہونے والے فوجی آپریشن میں بڑے پیمانے پر ظلم و تشدد کے باعث جہاں لاکھوں روہنگیا مسلمان اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے وہیں بے شمار انسانوں کا قتل عام بھی ہوا۔ میانمار، جس کا پرانا نام برما ہے، یہاں کی ریاست رخائن میں مسلمانوں کی اکثریت آباد تھی، ان مسلمانوں کو بدھ پیروکار غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتے ہیں، اور انہیں شہریت بھی نہیں دی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں