کورونا وائرس سے پاکستان بھی متاثر ،کس صوبے میں کیا حالات ہیں؟

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے مہلک وائرس نے اب پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. اور پاکستان کے ہر صوبے میں اس وائرس سے متاثر لوگ موجود ہیں. جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اور اب تک اس وائرس سے 3افراد اپنی جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں. جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد 482 ہے .
سندھ
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 19 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 208 ہوگئی ہے۔ وائرس کے روز بروز بڑھنے کی وجہ سے

سندھ میں آج سے سرکاری دفاتر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جب کہ گزشتہ روز سے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات کو 15 روز کے لیے بند کردیا گیا تھا. لیکن سبزی اور راشن کی دکانیں کھلی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے. تاکہ عوام کو کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے. اس کے علاوہ گوشت کی دکانیں بھی کھلی رہے گی. میڈیکل اسٹور، ریسٹورنٹس کھلے رہیں گے. لیکن ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں ہے. اس کے علاوہ جن شاپنگ مالز میں راشن کی دکانیں ہیں. وہ بھی کھلی رہے گی
سکھر
دوسری جانب سکھر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق تفتان سے مزید زائرین کو قرنطینہ سینٹر لایا گیا ہے جہاں زائرین کی تعداد 1050 ہوگئی ہے جب کہ کراچی سے ماہرڈاکٹروں کی ٹیم قرنطینہ سینٹرپہنچ گئی۔

ضلع انتظامیہ کا کہنا ہےکہ تفتان بارڈر سے آئے مسافروں کی اسکریننگ کاعمل جاری ہے۔
سکھر انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کے تحت سکھر کی تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور چائے خانے بند کرادیے ہیں۔
پنجاب
لاہور میں بھی کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز کی تصدیق کے بعد صوبے بھر میں مریضوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا پانچواں افراد لاہور کے میو اسپتال میں زیر نگرانی ہے. اور ان کا کورونا ٹیسٹ کا رزلٹ مثبت آیا جس کے بعد مریضوں کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 5 مریضوں میں پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر کی بیٹی بھی شامل ہیں جو چند روز قبل برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔

پنجاب میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. اور مارکیٹ اور دکانوں کو رات 10 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی ہے. میڈیکل اسٹور کو کسی بھی طرح سے انتظامیہ نے پابند نہیں کیا. اس کے علاوہ کورونا وائرس کے حوالے سے ہیلپ لائن کا بھی افتتاح کیا گیا ہے.

ریسکیو ذرائع کے مطابق کورونا وائرس جیسی علامات محسوس کرنے پر شہری ہیلپ لائن 1190 پر رابطہ کر سکیں گے، ہیلپ لائن کی ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے، آج اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جائے گا۔
اسلام آباد
اسلام آباد میں کورونا وائرس کے4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
بلوچستان
بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید 7 نئے کیسز سامنے آنے کےبعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 23 ہوگئی ہے۔
کوئٹہ
کوئٹہ میں بھی وائرس کے خطرات کے پیش نظر شاپنگ مالز ، ریسٹورینٹس، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے
گلگت بلتستان
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مزید 12 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 15 ہوگئی ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک میں بڑے ہوٹلز کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کرنے کےلیے صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ دیا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو 16 مارچ کو خط لکھا گیا جس میں کہا گیا ہےکہ کورونا وائرس کو مزید پھیلاؤ سے روکنے کے اقدامات کے پیش نظر ملک میں تھری اور فور اسٹار ہوٹلز کو خالی کروا کر قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا جائے، کورونا وائرس کے ایک مشتبہ شخص کےلیے ایک کمرہ کی پالیسی اپنائی جائے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ این ڈی ایم اے کو قرنطینہ مراکز کی تفصیلات سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد کو 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور مدارس بھی 5 اپریل تک بند رہیں گے
اس کے علاوہ پاکستان علماء کونسل نے جمعے کے خطبے سے اردو بیان ختم کرنے اور مختصر عربی خطبہ پڑھنے کا فتویٰ بھی جاری کیا ہے جب کہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے بھی امام مساجد سے فرض نمازیں مختصر کرنے کی درخواست کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں