بابر اعظم کی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم بیک ٹو بیک سیریز کھیل رہی ہے، دورہ انگلینڈ کے بعد زمبابوے کے خلاف سیریز اور پھر پاکستان سپر لیگ کے میچز کھیلے، اس لیے کھلاڑی پر اعتماد ہیں کہ نیوزی لینڈ میں اچھا کھیلیں گے اور اس کے لیے پرجوش ہیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ اسکواڈ دورہ نیوزی لینڈ کے لیے پرجوش ہے، پر اعتماد ہیں کہ نیوزی لینڈ میں کارکردگی اچھی ہو گی، رنز صرف بابر اعظم نے نہیں کرنے۔
قومی اسکواڈ 23 نومبر کی صبح نیوزی لینڈ کے لیے روانہ ہو گا، اسکواڈ 35 کھلاڑیوں اور 20 آفیشلز پر مشتمل ہے، اسکواڈ میں پاکستان شاہینز کے بھی کھلاڑی اور آفیشلز بھی شامل ہیں۔
بابر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے، انگلینڈ میں پاکستان نے اچھی کرکٹ کھیلی، نوجوان کرکٹرز کی انفرادی کارکردگی بھی اچھی رہی، نیوزی لینڈ میں بھی ہمارا ریکارڈ اچھا رہا ہے اس لیے امید ہے کہ نیوزی لینڈ میں اچھی کرکٹ کھیلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیا چیلنج ہے کیونکہ نئی ذمہ داری ملی ہے لیکن مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے، میں لطف اندوز ہوں گا، میں نے ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کی ہے، سرفراز احمد اور اظہر علی سے بہت کچھ سیکھا ہے، وائٹ بال کا نائب کپتان رہتے ہوئے بھی سیکھا ہے، سرفراز احمد اور اظہر علی سے مشاورت کروں گا لیکن فیصلے کا اختیار مجھے ہی ہو گا۔
قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ذمہ داری لے کر کھیلا ہے، اب بھی کوشش یہی ہے کہ ذمہ داری نبھاؤں اور اچھا کھیل جاری رکھوں۔

ٹیم میں تین کپتانوں کی موجودگی میں خود پر دباؤ ہونے اور گروپنگ کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں بابر اعظم نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، سب کھلاڑی بہت اچھے ہیں، ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں، ہم بحثیت ٹیم گروپ ہوتے ہیں، گروپنگ والی بات نہیں ہے، سب اچھا کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ بیرون ملک کھیلنا ہمیشہ چیلنج ہوتا ہے، اب بھی چیلنج ہو گا لیکن اس چیز سے اعتماد ملتا ہے کہ بیرون ملک ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے اور ماضی میں نیوزی لینڈ میں بھی اچھا کھیلے ہیں۔
قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ نوجوان کرکٹرز کو سپورٹ کرنا پڑتا ہے، ہر کرکٹر اسٹرگل کرتا ہے، میں نے ٹیسٹ میں آغاز میں اسٹرگل کیا لیکن مکی آرتھر نے میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ میں ضرور اچھا کروں گا اور پھر ایسا ہی ہوا، میں نے پرفارم کرنا شروع کیا اور ٹیسٹ میں بھی تسلسل آیا۔
بابر اعظم نے کہا کہ ہر ملک میں اسکور کرنا ہی ہدف ہوتا ہے، یہی ہدف نیوزی لینڈ میں بھی ہو گا، سنچری کرنے کا ہدف آسٹریلیا نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں ہوتا ہے، اب نیوزی لینڈ میں چاہوں گا کہ سنچری اسکور کروں لیکن ہر روز بابر اعظم اسکور نہیں کرے گا، کبھی اظہر علی کرے گا تو کبھی حارث سہیل، یہ نہیں ہوتا کہ سب کے سب پرفارم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی پرفارم نہیں کر رہا ہوتا تو اسے بیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یہی ہم نے کرنا ہے۔
بابر اعظم نے کہا کہ مجھے کرکٹ بورڈ نے اعتماد دیا ہے اور آزادی دی ہے، ایسا کوئی دباو نہیں ہے کہ مجھے جلد ہٹا دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں