اداکارہ اشنا شاہ نے ڈاکٹر ماہا کی موت کو قتل قرار دیا

کراچی: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ اشنا شاہ نے کراچی میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا کی موت کو قتل قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اداکارہ اشنا شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ماہا شاہ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ سر کے پیچھے گولی لگنے کا نشان یہ واضح کرتا ہے کہ ڈاکٹر ماہا نے خودکشی نہیں کی بلکہ یہ ایک قتل ہے۔
اداکارہ نے لکھا کہ پاکستان میں یہ بات غیرمعمولی ہے کہ کسی بھی عورت کو غیرت کے نام پر یا گھریلو تنازع پر قتل کردیا جائے اور اسے خودکشی کہہ دیا جائے. ایسے میں مقتولہ کو انصاف ملنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
اشنا شاہ نے لکھا کہ براہ مہربانی اس نوجوان لڑکی کو اس فہرست میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔
فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا شاہ کی موت کی خبر کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق انہوں ںے گھر کے واش روم میں خود کو بند کرکے خودکشی کرلی تھی
تاہم اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب یہ انکشاف ہوا کہ مقتولہ ماہا علی کے سر کے پیچھے سے گولی لگی۔
ذرائع کے مطابق میرپورخاص کے قریب گروڑ شریف کے گدی نشین کی بیٹی ماہا علی کی تدفین مقامی قبرستان میں کردی گئی ہے اور اس حوالے سے میڈیا نمائندگان نے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو گھر کے افراد نے بات کرنے سے انکار کردیا۔
لیکن اب ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی مبینہ خودکشی سے متعلق تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور پتہ چلا ہے کہ استعمال ہونے والا اسلحہ سعد نصیر نامی شخص کے نام پر ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق سعد نصیر نے 2010 میں پستول خریدا تھا، سعد نصیر کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحہ لائسنس سندھ سے جاری نہیں ہوا، اس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوست جنید کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے۔
جنید نے اپنے بیان میں بتایا کہ مرحومہ سے گزشتہ 4 سال سے تعلقات تھے اور ہم جلد ہی شادی کرنے والے تھے۔
جنید کا کہنا تھا کہ ماہا کو روز نجی اسپتال میں پک اینڈ ڈراپ کرتا تھا، لیکن جس دن اس نے خودکشی کی اس دن ماہا نے مجھے گھر آنے سے منع کیا۔
خاتون ڈاکٹر کے دوست کا کہنا تھا کہ ماہا کا اکثر اپنے والدین سے جھگڑا رہتا تھا، ماہا گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے ڈپریشن میں رہا کرتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں