اے پی سی میں کون کون شریک تھا؟

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں اپوزیشن کی کُل جماعتی کانفرنس میں 11 سیاسی جماعتیں شریک تھیں۔
اے پی سی میں مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف، مریم نواز جب کہ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، بی این پی عوامی اوردیگر جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔
کانفرنس کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں‌ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری بذریعہ ویڈیو لنک کے ذریعےشریک ہوئے تھے۔
کانفرنس سے آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اور اپنی مطالبات سامنے رکھے

مزید جانیں‌: اے پی سی کے بعد اپوزیشن کا حکومت کیخلاف تحریک چلانے اورلانگ مارچ کا اعلان

سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب میں کہا ہے کہ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا سنگین جرم ہے، عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کیا جائے۔
پیپلزپارٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن مشکلات سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں، ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصلحت چھوڑ کر فیصلے کریں، پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کا نظام وہ لوگ چلائیں جنہیں لوگ ووٹ کے ذریعے حق دیں۔
لیگی قائد کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے، جب ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے، انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے، کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے، اگر کوئی حکومت بن بھی گئی تو اسے پہلے بے اثر پھر فارغ کر دیا جاتا ہے، بچے بچے کی زبان پر ہے کہ ایک بار بھی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اور جیلوں میں ہیں لیکن کیا کبھی کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟

انہوں نے مزید کہا کہ ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھو بھی نہیں سکتا، کیا کسی ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی،کارروائی ہوئی، سزا سنائی گئی لیکن کیا ہوا؟
ان کا کہنا تھا کہ ووٹ سے بنا وزیراعظم کوئی قتل، کوئی پھانسی اور کوئی غدار قرار دیا گیا، منتخب وزیراعظم کی سزا ختم ہونے کو آہی نہیں رہی، یہ سزا عوام کو مل رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں