مطمئین اور خوش رہنا سیکھیں

شاید خوش رہنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کسی حال میں‌ خوش نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ میسر اور دست یاب سے بہت زیادہ کی خواہش کرتا ہے اور یہ خواہش بسا اوقات اتنی شدید ہوجاتی ہے کہ وہ شکوہ کناں اور ناخوش نظر آتا ہے۔

زندگی میں‌ مختلف مسائل، مشکلات اور محرومیوں کے سبب اکثر لوگ مایوس، افسردہ اور ناخوش نظر آتے ہیں، لیکن پریشان رہنے سے کبھی مسائل حل نہیں‌ ہوتے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں‌ کہ منفی خیالات کو جھٹک کر مثبت اور بامقصد سوچ اور طرزِ فکر اپنایا جائے تو حالات کا زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں‌ نفیسات کے ماہرین اور محققین کی یہ تجاویز اور مختلف ہدایات آپ کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق جو لوگ ماضی پر کڑھتے رہتے ہیں‌ یا مستقبل کی فکر میں‌ گھلتے رہتے ہیں، وہ کسی طرح‌ پُرسکون نہیں‌ رہ سکتے۔ ماضی کا پیچھا چھوڑنے اور مستقبل کی پریشانی کو سوچنے کے بجائے حال اور لمحہ موجود میں‌ رہنے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت ڈالیے۔

معروف کتاب ’دی پاور آف ناؤ‘ کے مصنف لکھتے ہیں، آج میں زندہ رہنا اور حال کو بھرپور انداز میں محسوس کرنا ہمیں ماضی کی سوچوں میں ڈوبنے سے بچا سکتا ہے۔ کل کس نے دیکھا ہے؟ تو کیوں نہ حال میں زندہ رہنا سیکھیں۔

یونیورسٹی آف میڈرڈ کی ایک تحقیق کے مطابق منفی خیالات اور تکلیف دہ باتوں‌ کو لکھ لینا ہمیں‌ بہت حد تک پرسکون کرسکتا ہے۔ ایسے خیالات کو تحریر کرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دینے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کی ان خیالات سے جان چھوٹ جائے گی۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے باقاعدگی سے یہ عمل جاری رکھا جائے تو بہت جلد انسان مشکل باہر نکل آتا ہے۔ اپنے خیالات پر توجہ دینا اور یہ جاننا چاہیے کہ کون سی سوچ منفی ہے اور اس سے ہماری ذہنی صحت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، یہی نہیں‌ بلکہ ان خیالات میں‌ بھی تمیز کرنا چاہیے جو کسی انسان کی ہمت اور ارادے کو توڑ سکتے ہیں۔ جیسے ہی ہم منفی سوچوں کی پہچان پر قادر ہوتے ہیں، انھیں‌ مسترد کرنے اور نجات پانے کی ہمت بھی بڑھ جاتی ہے اور ہم جلد اس مسئلے کو حل کرلیتے ہیں۔

ماہرین کے مابق مستقبل کے بارے میں سوچتے رہنا اور پریشان رہنا ایک منفی عمل ہے۔ تاہم کوئی بھی انسان مستقبل کا خواب بُنے بغیر نہیں‌ رہ سکتا۔ ہم سب کل کے بارے میں‌ سوچتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ ہم میں‌ سے کچھ لوگ اپنے مستقبل کے لیے صرف فکر مند نہیں‌ رہتے بلکہ وہ زندگی کا کوئی مقصد بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے ہر کوشش کرتے ہیں، وہ بچوں کی اچھی تربیت کرنے کے لیے زیادہ محنت اور دل چسپی ظاہر کرتے ہیں، وہ اپنے بہتر اور روشن مستقبل کی فکر کے بجائے وسائل اور اسباب کو آزماتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق دوسروں کی مدد کرنا آپ کو منفی خیالات سے بچاسکتا ہے یا نئی توانائی فراہم کرتا ہے۔ اپنے وسائل، اپنی جیب اور حالت کے مطابق کبھی کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، صرف کوئی اچھا جملہ، اچھا مشورہ اور دوسروں‌ کی خوشی میں‌ خوش ہوجانا بھی آپ کو بے پناہ طاقت اور خوشی دے سکتا ہے۔

آپ کیسے اپنی صلاحیتوں اور شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو استعمال کر رہے ہیں؟ ماہرین کہتے ہیں‌ کہ یہ جاننا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے سے انسان نہ صرف اپنی زندگی میں مزید مطمئن اور مسرور ہوسکتا ہے بلکہ وہ بہت کچھ بدلنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں! مشہور موٹیویشنل اسپیکر ’ٹونی روبنز‘ کی کتاب ’ان لیمیٹیڈ پاور‘ میں لکھا ہے کہ انسان کی اچھی جسمانی صحت کا ان کی ذہنی صحت اور ان کی زندگی کی کام یابی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

ماہرین کے مطابق آزمائش شرط ہے اور اگر ہم کوشش کریں تو مطمئن اور خوش رہا جاسکتا ہے۔‌

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں