21 ستمبر، الزائمر کا عالمی دن منایا جاتا ہے

آج دنیا بھر میں بڑھاپے میں یاداشت کو خراب کرنے والی بیماری الزائمر سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسمانی طور پر غیر فعال اور سست زندگی گزارنا بڑھاپے میں یاداشت کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔
الزائمر ایک دماغی مرض ہے جو عموماً 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں عام ہے۔ اس مرض میں انسان اپنے آپ سے متعلق تمام چیزوں اور رشتوں کو بھول جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق الزائمر اموات کی وجہ بننے والی بیماریوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔ اس مرض سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ہر سال 21 ستمبر کو الزائمر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ 60 لاکھ افراد اس بیماری سے متاثر ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 2050 تک ہر 8 میں سے ایک شخص اس مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار کی کمی سے یاداشت کی کمی واقع ہونے لگتی ہے اور یہی الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا سبب بنتی ہے۔ خون میں شکر کی مقدار اور سطح کو نارمل حالت میں رکھ کر اس بیماری کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ فشار خون زیادہ ہونے سے بھی دماغ میں گلوکوز کی فراہمی کے تناسب میں گڑ بڑ پیدا ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی طور پر فعال رہنا بھی دماغ کے لیے فائدہ مند ہے اور یاداشت کی خرابی سے بچا سکتا ہے۔ چھوٹی موٹی دماغی مشقیں جیسے ریاضی کی مشقیں زبانی حل کرنا، حساب کرنا، چیزوں کو یاد کرنا، پزل حل کرنا بھی دماغ کو چست اور فعال رکھتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں