کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے برطانیہ میں سفری پابندیاں لگا دی گئی

کورونا وائرس کی زیادہ خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی نئی قسم سامنے آنے کے بعد کئی یورپی ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کردی۔
یورپی ممالک نیدرلینڈز، بیلجیم اور اٹلی کے بعد آسٹریا اور جرمنی نے بھی برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور تمام پروازیں روک دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق برطانیہ سے بیلجیم اور نیدرلینڈز کیلئے ٹرین سروس بھی بند کردی گئی ہے۔
چیک ریپبلک نے بھی برطانیہ سے آنے والوں پرقرنطینہ کی انتہائی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے جبکہ آئرلینڈ اور فرانس بھی سفری پابندیاں لگانے پر غور کررہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے ساتھ یورو اسٹار ریل سروس تا حال برقرار ہے جس کے باعث پیرس کا ٹکٹ لینے کیلئے سینٹ پینکراز اسٹیشن کے یورو ٹرمینل پر مسافروں کی قطاریں لگ گئیں۔

وائرس کی نئی قسم کے حوالے سے ماہرین کا کہناہے کہ اگر کورونا وائرس نے مزید شکلیں تبدیل کیں تو کورونا ویکسین بھی تبدیل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم فی الحال نئی ویکسین اس کیلئے مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے لندن سمیت مشرقی انگلستان کے شہریوں پر اپنا علاقہ چھوڑنے پر پابندی لگا دی جبکہ برطانوی وزیر صحت کے مطابق لاک ڈاؤن کی پابندیاں اگلے چند ماہ تک برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں مزید 35 ہزار 928 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور یہ ایک ہی روز میں کورونا سے متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی۔
مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس سے مزید 326 افراد انتقال کرگئے ہیں جس کے بعد یہ ہلاکتیں 67 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں