نواز شریف کو ہر حال میں واپس لائیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو وطن واپس لانےکیلئے قانونی آپشنز کا استعمال کرتے ہوئےلیگل ٹیم کو “گو سلو پالیسی” ترک کرنےکی ہدایت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت ترجمانوں کے اجلاس میں نوازشریف کو واپس لانےکے لیے طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا . کہ نواز شریف کو ہر حال میں واپس لائیں گے . جس کے لیے تمام قانونی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ نواز شریف کو وطن لانے کے لیے حکومت سارےقانونی راستےاختیار کرےگی، نوازشریف کی وطن واپسی کیلئےقانونی اقدامات تیز کئےجائیں۔
وزیراعظم نے ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہ کرنے اور اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہ آنے کا عزم کا اعائدہ کرتے ہوئے کہا کہ جانتاہوں ساری بلیک میلنگ صرف این آر او کیلئے ہے اگر این آر او دے دیا تو سیاست کامقصدختم ہوجائےگا، ملکی دولت لوٹنےوالوں کوفری ہینڈکیسےدیدیں؟
اجلاس میں نوازشریف،شہبازشریف، آصف زرداری کےکیسز پر بریفنگ دی گئی، شرکا نے کہا کہ نوازشریف علاج کرانےلندن گئے اب وہاں بیٹھ کر سیاست شروع کر دی، اپوزیشن اپنے بچاؤ کے لئے مولانافضل الرحمان کوآگےلارہی ہے۔
اجلاس میں ترجمانوں نے نوازشریف کی لیبارٹری رپورٹس کے معاملےکی تحقیقات کا بھی مشورہ دیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا کہ مریم نواز شہباز شریف کو پھنسانے جا رہی ہیں، جو پتھر مریم لائی تھیں وہ سب شہباز شریف کی سیاست کو پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے اور وطن واپس لانے کے لیے عدالت جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اب ٹی وی پر بول رہا ہے سب کے نیب میں کیسز ہیں، لیکن عمران خان کسی مشکل میں پھنس بھی گیا تو بھی این آر او نہیں دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں